کابل(ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایک عرب اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ترکی کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نیٹو کے ساتھ ایک معاہدے پر رضامند ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات سے انگریزی میں شائع ہونے والے اخبار ’دی نیشنل‘‘ نے افغان حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ترکی کی حکومت نیٹو کے ساتھ ایک سو تیس ملین ڈالر کے معاہدے پر کابل ایئرپورٹ کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوگئی ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی سے موسوم کابل کے اس ائیرپورٹ کے سکیورٹی سے متعلق غیریقینی صورتحال کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا جائے گا۔
نیٹو کے سینکڑوں فوجی یہاں تعینات ہیں جہاں سے سویلین اور فوجی جہازوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔
اخبار نے افغانستان ایوی ایشن ایسوسی ایشن کے عہدیدار محمود شاہ عابدی کا بھی یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا ہے کہ یہ بندوبست بین الاقوامی برادری کو ایک بہتر حل کی یقین دہانی کرائے گا کیونکہ طالبان نے کبھی ترکوں پر حملہ نہیں کیا۔
افغانستان کے ذرائع ابلاغ نے بھی اس خبر کو شہہ سرخیوں میں شائع کیا ہے۔
گیارہ ستمبر تک امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کی ڈیڈ لائن کے بعد بین الاقوامی برادری میں افغانستان آنے جانے سے متعلق تشویش پائی جاتی تھی۔
گزشتہ ہفتے برطانوی اخبار ’ دی سن‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن چاہتے ہیں کہ افغآنستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ائیر پورٹ کی سکیورٹی کے لیے ترکی کے فوجی دستے وہاں تعینات رکھے جائیں۔ اخبار نے بتایا تھا کہ اس وقت ترکی کے چھ سو فوجی نیٹو فوج میں شامل ہیں اور افغانستان میں تعینات ہیں۔
کابل ائیرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری ترک فوجوں کو دینے کی منصوبہ بندی کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ طالبان اس فوجی دستے کو ’غیر مسلم‘ قرار نہیں دے سکتے اور ان پر حملوں سے گریز کریں گے۔
’دی سن‘ نے ترک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ انقرہ از خود کوئی فیصلہ نہیں لے گا لیکن اگر بین الاقوامی برادری اس کے لیے باقاعدہ رابطہ کرتی ہے تو ترک فوجی یہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہوں گے۔


