سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںتعلیمی اداروں میں بلوچی زبان کی اسامیوں کا اعلان کیا ، ایم...

تعلیمی اداروں میں بلوچی زبان کی اسامیوں کا اعلان کیا ، ایم فل اسکالرز

 

کوئٹہ ( ہمگام نیوز) بلوچی زبان میں پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالرز نے حکومت بلو چستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی تمام جامعات ، کالجز، اسکولز اور سرکاری اداروں میں بلوچی زبان کی ٓاسامیوں کا اعلان اور ریٹائرڈ پروفیسرز کو اسامیوں پر دوبارہ تعینات کیا جائے،بلو چستان کے تعلیمی اداروں میں بلوچی زبا ن کی اسامیاں نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں پی ایچ ڈی اور ایم فل اسکالرز کو بے روز گار ی کا سامنا کر پڑ رہا ہے ۔

بلوچ قوم کی تاریخ ادب سیا ست اور ثقافت موجود ہے لیکن سر کا ری پر ستی نہ ہونے کی وجہ سے بلو چی زبا ن کو بے شمار خطرات لاحق ہیں ۔

یہ بات ایم فل اسکا لر عزیز بلوچ، ڈاکٹر عاصم ذہیر، اعظم بلوچ نے بدھبکو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔

 

ایم فل اسکا لر عزیز بلوچ نے کہاکہ سندھ میں سندھی زبان اسکولوں سے لیکر کالجز تک پڑ ھائی جا ری ہے 70کی دہائی نیب کی حکومت میں لازمی قراردئے گئے اس فیصلے کے تحت بلوچستان میں بھی بلوچوں کی مادری زبان کو لازمی قر ار دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ مادری زبانوں کی ترقی کے لئے

اقوام متحدہ کی جانب سے ہر سال 21 فروری کو مادتی زبانوں کاعالمی دن منایا جاتا ہے جس کا

مقصد دنیامیں عدم توجہی کی وجہ سے کمزور زبانوں کی تحفظ اور مادری زبانوں میں تعلیم کو

عام بنانا ہے بلو چی اس سر زمین کی ایک تاریخی اور قدیم زبان ہے جس میں بلوچ قوم کی تاریخ ادب سیاست اور ثقافت موجود ہے لیکن سرکاری پر ستی نہ ہو نے کی وجہ سے بلوچی زبان کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 2014 کو بلو چستان کی صوبائی حکومت نے اسمبلی میں بل پاس کر کے بلوچ زبان کو ذر یعہ تعلیم بنا نے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتی عدم توجہی اور منصوبہ بندی نہ ہونے سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے ۔

 

انہوں نے کہاکہ اس وقت مختلف جا معات

میں بلوچی پڑ ھائی جا رہی ہے ان اداروں سے سالانہ سینکڑوں کی تعداد میں طالب علم بی ایس ، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے فارغ التحصل ہو جا تے ہیں جبکہ اسکولوں اور کالجز میں بلوچی زبان کی ٓاسامیاں نہ ہو نے تمام افراد بے روز گا ر ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ بلو چستاننکی سرکاری کالجز میں ٓاخری دفعہ 2011کو بلوچی زبان کی چند پوسٹیں مشتہر کی گئیں تھیں لیکن

اس کے بعد بلوچی کی کوئی بھی ٓاسامی نہیں ٓائی اور نہ ہی بلوچی کے ریٹائرڈ پر وفیسر کے خالی ٓاسامیوں کا اعلان کیا گیا ہے ۔

 

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ٓائین کے ٓارٹیکل 251کے تحت ہر شہری کو اپنی مادری زبان کا تحفظ کا حق حاصل ہے اور بلوچی بشمول براہوئی اور پشتون زبان کو اسکولوں میں پڑ ھا نے کے لئے پاس کردہ بل بھی موجود ہے لیکن اسکے باوجود اسکولوں میں بلوچی زبان کی ٓاسامیاں نہیں ہے ۔

انہوں نے حکومت بلو چستان سے مطالبہ کیاہے کہ بلو چستان کی تمام جامعات ، کالجز، اسکولز سمیت سرکاری اداروں میں بلوچی زبان کی ٓاسامیوں کا اعلان اور ریٹائرڈ پر وفیسرز کو ٓاسامیوں پر دوبارہ تعینات کیا جائے بصورت دیگر ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز