کوئٹہ (ہمگام نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کے زیر اہتمام جامعہ بلوچستان کے اساتذہ آفیسرزاور ملازمین کو اس مہینے کی مکمل تنخواہ کی عدم فراہمی کے خلاف آج سوموار 15 اگست کو دن دس بجے بامعہ بلوچستان میں زبردست احتجاجی مظاہرہ اور وائس چانسلر سیکریٹریٹ میں دھرنا دیا ۔
احتجاجی مظاہرے اور دھرنے میں سینکڑوں اساتذہ ، آفیسرز اور ملازمین نے شرکت کی ۔
درھرنے میں مظاہرین نے مکمل تنخواہ کی بروقت ادائیگی اور مالی بحران کے مستقل حل کے لئے زبردست نعرے بازی کی ۔
احتجاجی دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، شاہ علی بگٹی ، نذیر احمد لہڑی ، فرید خان اچکزئی ، نعمت اللہ کاکڑ ، گل جان کاکڑ ، ڈاکٹر عابدہ بلوچ ، پروفیسر عبدالباقی بنک ، محمد آصف بلوچ ، سید شاہ بابر حافظ عبدالقیوم اور بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر غلام نبی مری نے خطاب کیا جبکہ بی ایس او کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری بالاچ بلوچ نے اظہار یکجہتی کے لئے شرکت کی ۔
مقررین نے اس امر پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا کہ صوبے کے مادر علمی جامعہ بلوچستان کے اساتذہ ، آفیسرز اور ملازمین کو انکے بنیادی حق تنخواہ سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ جامعہ کے وائس چانسلر ، پرو وائس چانسلر ، ٹریڈار اور رجسٹرار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ان سب کو جرآت کر کے ہمارے احتجاج میں شامل ہوکر صوبائی و مرکزی حکومت کو کھل کر بتا دینا چاہیے تھا کہ انتہائی کم بجٹ میں جامعہ بلوچستان کسی صورت نہیں چل سکتی ۔
مقررین نے زور دے کر صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ جامعات کی گرانٹس ان ایڈز میں کم از کم دس ارب روپے فوری جاری کرے اور مرکزی حکومت جامعات کی ریکرنگ بجٹ میں اضافہ کر کے 150 ارب روپے تک بڑھائے مقررین نے اعلان کیا احتجاجی تحریک کے سلسلے میں 16 اگست کو جامعہ کے مین گیٹ پر دھرنا ھوگا اور ایڈمن سمیت تمام دفاتر کی تالا بندی ھوگی مقررین نے تمام سیاسی جماعتوں ، ممبران پارلیمنٹ وصوبائی اسمبلی ، وکلا تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کیا کہ وہ جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کو در پیش مالی بحران کی مستقل خاتمے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے اور جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کرام ، آفیسرز اور ملازمین سے درخواست کیا کہ وہ کل دس بجے صبح آرٹس بلاک کے سامنے بڑی تعداد میں جمع ہوا ۔


