کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) وائس فار بلوچ مسئنگ پرسنز کے ترجمان نے اپنے جاری بیان میں کہاہے کہ موجودہ حکومت کے انسانی حقوق کے وزیر کا یہ کہنا کہ آرمی چیف پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں کہا ہے کہ “ملکی ادارے جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں” کا یہ بیان حکومت اور لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم ذیلی کمیٹی کے کردار کو مشکوک بناتی ہے
اانھوں نے کہاہے کہ اگردیکھاجائے
لاپتہ افرادکمیشن کےسامنے ٹوس شوائد آئےتو کمیشن نےان لاپتہ افراد کےحوالے سے پروڈکشن آرڈرز جاری کئے اور سپریم کورٹ نے جن مسنگ پرسنز کے کیسز میں جوڈیشل انکوائری کروائی وہاں ثابت ہوا کہ انکو ملکی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے اور اعلی عدلیہ نے انکے بازیابی کے احکامات جاری کئے۔
ترجمان نے کہاکہ جب تک اداروں کوجبری گمشدگیوں سے بری الذمہ قرار دیاجائےگااور اس قائم کمیٹی میں اقوام متحدہ کےورکنگ گروپ برائےجبری گمشدگی وہ تجاویز
جو2017میں حکومت پاکستان کوفراہم کئےہیں۔ انہیں زیرغورنہیں لایاجائےگاتو کمیشن کاکردار بے اثر رہےگا ۔


