جنوبی کوریا(ہمگام نیوز)آزادی لانگ مارچ کے شرکاء نویں دن مزید 3 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اور “آزادی لانگ مارچ” اختتام پذیر ہوا، جنوبی کوریا میں بلوچ آزادی پسندوں کا یہ لانگ مارچ نصیر بلوچ کی قیادت میں 27 مارچ 2016 کو Busan میں بلوچ قومی آزادی کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اور آج 9 دن کے کم ترین وقت میں 463 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے سیول شہر میں UNHRO کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ لانگ مارچ کے شرکاء نے راستے میں تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود انتہائی پرعزم اور قومی جذبے سے سرشار ہوکر یہ تکلیف دہ مسافت طے کی۔ نصیر بلوچ اور میر یاسین بلوچ نے نمائندہ سنگر سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے مارچ کے دوران جو تکالیف اور مشکلات برداشت کیں،اس سے ہمارے حوصلے اور بلند ہوئے۔ ہر اگلا قدم پچھلے قدم سے زیادہ حوصلہ افزا تھا۔ بلوچ شہداء کی قربانیوں نے قدم قدم پر ہمیں ہمت دی، اور ہم وقت مقررہ پر اپنی منزل پر پہنچ گئے۔” انہوں نے کہا کہ “یہ لانگ مارچ ایک ابتدا تھی کہ اس ذریعے سے ہم کس طرح اپنی آواز عالمی برادری تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہم عملی قدم اٹھاتے ہوئے مزید اس سلسلے میں جدوجہد کرینگے۔ تاکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ تک موثر انداز میں اپنا مدعا پہنچا سکیں۔ اور بلوچ قومی مسئلہ اجاگر ہو ، انہوں نے کہا کہ “BUsan سے لیکر سیول تک جتنے شہروں اور آبادیوں سے ہم گزرے، وہاں ہم نے کورین عوام کو بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضہ گیریت اور بلوچ سرزمین پر پاکستانی بربریت بارے آگاہی دی۔ لوگوں کو بلوچ عوام کے خلاف ہونے والی پاکستانی سنگین جنگی جرائم، سیاسی کارکنوں کو جبری طور پہ اغواء کرنے اور ان کی تشدد زدہ مسخ لاشیں پھینکنے کے حوالے سے معلومات پہنچائی۔ دوران سفر ہم نے راستے میں 2000 سے زائد پمفلٹ تقسیم کئے۔ جہاں کوریا کے شہریوں نے مدد کرنے کے ساتھ ہر سطح پر ہماری آواز پہنچانے کی یقین دہانی کروائی۔ UNHRO اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے اور یادداشت پیش کرنے کے بعد ہماری یہ لانگ مارچ اختتام پذیر ہوا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ وہ اس لانگ مارچ اور احتجاجی مظاہرے کے بارے میں رپورٹ لندن میں اپنے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ کو ارسال کرینگے، یاسین بلوچ نے کہ دنیا میں کوئی کام ناممکن نہیں، صرف ایمانداری، خلوص، حوصلہ اور ہمت ہونی چاہئے۔ تب انسان اپنی بساط سے بڑھ کر کام سرانجام دے سکتا ہے۔ ہمیں قومی سوچ، بلوچ قومی تحریک کی مقصدیت اور بلوچ کیس کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم بلوچ اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ان کا ازالہ بھی کریں۔ تاکہ عالمی برادری ہماری آواز پر متوجہ ہو، ہمیں یہ دیکھنا چائیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور وقت کا تقاضا کیا ہے ،اپنے آئندہ کے پروگرام کے بارے میں انہوں نے نمائندہ سنگر کو بتایا کہ “5 اپریل بروز منگل امریکہ اور برطانیہ کے سفارت خانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ اور 6 اپریل کو انڈین سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے، آخر میں انہوں نے تمام آزادی پسند رہنماؤں، کارکنوں، بلوچ فرزندوں اور میڈیا کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں لانگ مارچ کی مقصدکو اجاگر کیا۔


