پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںجنیوا میں امریکی صدر جوبائیڈن اور روسی صدر کے مابین ہم ملاقات

جنیوا میں امریکی صدر جوبائیڈن اور روسی صدر کے مابین ہم ملاقات

جنیوا (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بدھ کو جنیوا میں ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں صدور نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس ملاقات کو معنی خیز قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ تناؤ سے بھرپور عرصے میں بھی مشترکہ مقاصد کے حصول میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔

دونوں صدور کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس اور امریکہ کے تعاون سے آپسی تنازعات اور جوہری جنگ کے خدشے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

اپنی پریس بریفنگ میں دونوں رہنماؤں نے متعدد موضوعات پر گفتگو کی جس میں انسانی حقوق، جوہری ہتھیار اور سائبر سکیورٹی وغیرہ بھی شامل تھے۔

صدر پوتن نے کہا کہ روس نے امریکہ کو مبینہ سائبر حملوں کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ نے اب تک اس پر جواب نہیں دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ وہ اور صدر بائیڈن سائبر سکیورٹی پر بحث کے لیے پرعزم ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی دونوں ممالک کے لیے اہم ہے اور اُنھوں نے حال ہی میں امریکہ میں ایک تیل کی پائپ لائن سسٹم اور روس میں ایک طبی نظام پر سائبر حملے کی جانب اشارہ کیا۔

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن ’تجربہ کار سیاستدان ہیں اور یہ بھی کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے بہت مختلف ہیں۔‘

ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے امریکہ میں اسلحے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے لیے امریکی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ہمارے ملکوں میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کے ذمہ دار لیڈر خود ہوتے ہیں۔ آپ امریکہ کی سڑکوں کو دیکھیں، روز لوگ مرتے ہیں۔ آپ منھ بھی نہیں کھول پاتے کہ آپ کو گولی مار دی جاتی ہے۔`

اُنھوں نے کہا کہ ’دنیا بھر میں سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ کیا ایسے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے؟

اُن کے بعد امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پریس کانفرنس کی جس میں اُن کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہیں، روس کے خلاف نہیں۔

جہاں کہیں بھی اختلاف ہیں، وہاں میں چاہوں گا کہ صدر پوتن سمجھیں کہ میں جو کہتا ہوں وہ کیوں کہتا ہوں، اور جو کرتا ہوں وہ کیوں کرتا ہوں۔ میں نے صدر پوتن کو بتایا ہے کہ میرا ایجنڈا روس یا کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ امریکی عوام کے حق میں ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ انسانی حقوق امریکیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ’ہمیشہ ایجنڈے پر رہیں گے۔

جب صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ اُنھوں نے امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت روکنے کے لیے کیا کیا ہے، تو اُن کا کہنا تھا کہ ‘پوتن جانتے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ روس بے تابی سے بطور عالمی قوت اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

بائیڈن نے کہا کہ مسلسل مداخلت کی وہ یہ قیمت چکائیں گے‘ کہ یہ حیثیت ختم ہو جائے گی۔

جنیوا میں ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی کم درجے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں، تاہم اپنی پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے کہا کہ صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں سفیروں کی واپسی طے پا گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز