تربت/گوادر (ہمگام نیوز) 13 اگست کے دن تربت کے علاقے آبسر میں قابض پاکستانی فوج کی دہشت گردانہ حملے میں بلوچ طالب علم حیات مرزا بلوچ کی شہادت کے خلاف بلوچستان میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہوگئی ہے۔
آج شہید حیات بلوچ کے آبائی شہر تربت میں ایک ریلی نکالی گئی جو تربت پبلک لائبریری سے شروع ہوئی اور شہید فدا احمد چوک پر آکر جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے۔ اس دوران مظاہرین شہید حیات بلوچ کو انصاف فراہم کرنے کے حق میں اور مقبوضہ بلوچستان میں قابض پاکستان کی دہشت گردی روکنے کے حوالے سے شدید نعرے بازی کرتے رہے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شہید حیات بلوچ کی شہادت میں ملوث ایف سی اہلکاروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس دانستہ قتل کو ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان کے لوگ روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات کا نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست تشدد کے ذریعے بلوچوں کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے مگر اب ہم چُپ نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کا سیاہ چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے قابض پاکستان اور اس کی خونخوار اور درندہ صفت فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پاس تشدد کرنے کے ہزار طریقے ہیں اور آپ اپنی روایات پر قائم رہتے ہوئے بلوچ عوام کو تشدد اور جبر سے خاموش کرانا چاہتے ہو مگر بلوچ عوام نے اتنی موت دیکھی ہے کہ اب موت سے ڈر لگنا ختم ہوگیا ہے اور ہمیں اب موت سے بلکل بھی ڈر نہیں لگتا بلکہ اب فیصلہ ہوجانا چاہئیے کہ آپ زندگیوں کے چراغ گل کرنا چاہتے ہیں تو کرتے رہیں مگر اب ہم اپنی سرزمین پر تمہارے اس ظلم کو کسی بھی صورت و قیمت پر مزید برداشت نہیں کریں گے۔
گوادر میں بھی جی ڈی اے پارک سے ایک خاموش مشعل بردار جلوس نکالا گیا جو شہر کے مختلف علاقوں اور سڑکوں سے ہوتا ہوا سید ظہور شاہ ہاشمی یاد گار پر ختتام پزیر ہوا۔ جلوس میں شامل افراد نے حیات بلوچ کی تصویریں اور موم بتیاں اٹھا رکھی تھیں۔


