کوئٹہ (ہمگام نیوز) غلام فرید ولد محمود خان کی ہمشیرہ گذشتہ کئی دنوں سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار مسنگ پرسنز کے کیمپ میں اپنے بھائی غلام فرید کی جبری اغوا کے خلاف علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہوئی ہے. یاد رہے غلام فرید بلوچ ولد محمود خان بابو محلہ خاران کے رہائشی ہے جسے 25 اگست 2016 کی رات کو پاکستان کے خفیہ اداروں کی اہلکاروں نے ان کے گھر سے جبری اغواء کرلیا اور آج تک اسے کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا غلام فرید بلوچ کے گھر والوں نے ان کی بازیابی کے لیے ریاستی اداروں کے مختلف دروازوں کھٹکھٹائے لیکن ان کی کئی بھی سنوائی نہیں ہوئی، ان کے والدین آج بھی اپنے بیٹے کی آمد کی انتظار میں ہیں. غلام فرید جو کہ خاران شہر میں زیر تعلیم تھا جسے خفیہ اداروں نے اسے دیگر بلوچوں کی طرح اغواء کرلیا جو آج تک ریاستی ٹارچر سیلوں میں زندگی و موت سے نبرد آزما ہے، غلام فرید کی بہن نے اپنی بھائی کی بازیابی کے لیے گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھ کر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بیٹھی ہوئی ہیں وہ اپنے بھائی کے ساتھ دیگر بلوچ اسیران بی ایس او کے انفارمیشن سیکرٹری شبیر بلوچ سمیت ہزاروں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے ساتھ احتجاج کر رہی ہیں تاکہ حکام بالا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں تک ان کی آواز پہنچ سکے۔


