خواتین اب بغیر مرد سرپرست کے حج کی درخواست جمع کرا سکتے ہیں: سعودی عرب
ریاض (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈسک رپورٹس کے مطابق وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ خواتین کو حج درخواستوں کے لیے مرد سرپرست کی ضرورت نہیں اور خواتین کسی مرد سرپرست کے بغیر سالانہ حج کی درخواستیں جمع کرا سکتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس سال حج کے لیے مقامی عازمین حج کے لیے رجسٹریشن کے رہنما اصول جاری کرتے ہوئے سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ خواتین کو حج درخواستوں کے اندراج کے لیے مرد سرپرست رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور دیگر خواتین کے ساتھ مل کر بھی ایسا کر سکتی ہیں۔
وزارت حج و عمرہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ حج ادا کرنے کے خواہشمند افراد کو انفرادی طور پر اندراج کرانا پڑے گا، خواتین محرم(مرد سرپرست) کے بغیر بھی دیگر خواتین کے ہمراہ رجسٹریشن کرا سکتی ہیں۔
یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کچھ دن قبل ہی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ایک قانونی ترمیم کے نتیجے میں اب سعودی عرب میں خواتین اب اپنے والد یا مرد سرپرست کی رضامندی کے بغیر آزادانہ زندگی بسر کر سکتی ہیں۔
اس اہم اقدام نے ایک عرصے سے قائم سرپرستی کا نظام ختم ہو گیا ہے جہاں اس قانون کے تحت بالغ خواتین کو قانونی نابالغ ظاہر کیا جاتا تھا اور ان کے ‘سرپرست’ یعنی شوہر، والد اور دیگر مرد رشتے داروں کو ان پر صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے کی اجازت تھی۔
اس سے قبل سن 2019 میں سعودی عرب نے خواتین کو مرد سرپرست کی منظوری کے بغیر بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی تھی۔


