دلگان (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق، قابض ایران کی فوجی و سکیورٹی فورسز نے دلگان کے قریب جبرآباد علاقے میں ایک کارروائی کے دوران ایک بلوچ شہری کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد مبینہ طور پر انتقامی اقدام کرتے ہوئے ایک زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچایا۔
قابض ایرانی فورسز ایک شہری کو گرفتار کرنے میں ناکام رہیں۔ بعد ازاں، دلگان کے دادستان کے حکم پر، اسی علاقے میں واقع ایک زرعی زمین پر یورش کی گئی اور اسے بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا۔
متاثرہ زمین اور اس سے منسلک تنصیبات ایک بلوچ شہری، امیر بامری ولد چراغ، کی ملکیت تھیں۔ قابض فورسز کا دعویٰ ہے کہ واقعے کے دوران ایک بلوچ شہری، جس کی شناخت “ا۔ ب” کے نام سے کی گئی ہے، کچھ وقت کے لیے اس زمین پر موجود تھا۔ تاہم زمین کے مالک امیر بامری نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی ایسے فرد کی موجودگی کا کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی ان کا اس دن کی مسلح جھڑپ سے کوئی تعلق ہے۔
ان اقدامات کے باعث کسان کو دسیوں سے لے کر سینکڑوں ملین تومان تک کا نقصان پہنچا ہے، جبکہ پانچ افراد پر مشتمل اس کے خاندان کا واحد ذریعۂ معاش بھی مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ امیر بامری کے مطابق، انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی زرعی موٹر اور کھیتی باڑی پر خرچ کی تھی اور اب وہ کسی بھی سہارے کے بغیر رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زراعت ہی ان اور ان کے بچوں کی زندگی کا واحد ذریعہ تھی اور یہ کارروائی کسی بھی قانونی یا انسانی جواز سے خالی ہے۔


