لندن (ہمگام نیوز) کل جیسے بی وائی س کے لیڈرز کی پیشی تھی، میں اسی اُمید میں تھی کہ وہ رہا ہوں گے، لیکن ریاستِ پاکستان نے اُنہیں دوبارہ ریمانڈ پر بھیج دیا۔ میرا ریاستِ پاکستان سے پُرزور اپیل ہے کہ بی وائی سی کے لیڈرز کو رہا کیا جائے۔ وہ کبھی دہشتگرد نہیں تھے۔ وہ ہم ماؤں کا سہارا تھے، وہ ہمارے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر مہرنگ اور بیبرگ کے ساتھ میں خود ہمیشہ رہی ہوں، اور میں نے کبھی اُنہیں کسی دہشتگردی میں ملوث نہیں دیکھا۔
ہم مائیں اور ڈاکٹر مہرنگ اسلام آباد گئے تاکہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔ ہم ماؤں نے ڈاکٹر مہرنگ سے کہا کہ ہوئی ہیں، آپ ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارا فیصلہ ی تھا کہ ہم سڑکوں پر آ کر احتجاج کریں گے، ریلیاں نکالیں گے، سڑکیں بند کریں گے، پریس کلبز میں اپنی آواز بلند کریں گے، انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے اپنی فریاد سنائیں گے۔
ہم ڈاکٹر مہرنگ کے ساتھ اسلام آباد گئے، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ پھر میں نے خود ڈاکٹر مہرنگ سے کہا کہ یہاں سے واپس چلتے ہیں، یہ ہمارا گھر نہیں، یہاں ہماری آواز سنی نہیں جائے گی۔
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں پر جو الزامات لگائے جا رہے ہیں، اُن کے تحت بار بار ریمانڈ پر دیا جا رہا ہے۔ راجی مُچی کے دوران یا لانگ مارچ کے دوران جو درد، جو اذیت ہم نے دیکھی، وہ ہمیں ہی معلوم ہے۔ لانگ مارچ کے دوران ہم ماؤں اور بیٹیوں کو مارا پیٹا گیا، ہمارے بچوں کو جیلوں میں ڈالا گیا، میں خود بھی بیمار ہو گئی، جیل گئی۔
میں نے خود ڈاکٹر مہرنگ سے کہا: “چلو واپس بلوچستان چلتے ہیں، یہ ہمارا گھر ہوتا یا ہمیں اپنے گھر کے افراد سمجھتے، تو ہمارے بچوں کو بہت پہلے چھوڑ دیتے۔ واپس چلتے ہیں، اپنی آواز اپنے پیاروں کے لیے وہاں بلند کریں۔”
میں ہمیشہ اپنے اسٹوڈنٹ لیڈرز، اپنے بچوں سے کہتی ہوں کہ احتجاج ختم کرو، یہاں کوئی فائدہ نہیں بیٹھنے کا، ان سنگ دلوں کے سامنے۔ نہ انسانی حقوق کے ادارے ہمیں انصاف دیتے ہیں، نہ یہ ظالم ریاستِ پاکستان۔ لیکن ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے، نہ ڈاکٹر مہرنگ، نہ بی وائی سی کے باقی ممبران۔ وہ، ڈاکٹر مہرنگ، میرا معذور بیٹا بیبرگ اور باقی سب، جیل میں رکھے جانے کے باوجود، ان کے حوصلے مضبوط ہیں۔ وہ اپنی سوچ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
میں سو بار سلام پیش کرتی ہوں بی وائی سی کے تمام لیڈرز کو:
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو
میرے بیٹے بیبرگ بلوچ کو
بی بو بلوچ کو
گل زادی بلوچ کو
عطاء اللہ بلوچ کو
میں ریاستِ پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کہ بی وائی سی کے لیڈرز کو مزید جھوٹے مقدمات میں جیل نہ ڈالا جائے۔ اگر ریاستِ پاکستان کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں، تو عدالت میں پیش کرے، ورنہ انہیں رہا کرے۔
ریاستِ پاکستان نے ہمیشہ ہمارے بچوں کو اغوا کر کے، لاپتہ کر کے، دس پندرہ سال تک غائب رکھ کر سزا دی ہے۔ اُن کا قصور صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ بلوچ ہیں، صرف یہ کہ وہ اپنے حقوق مانگتے ہیں۔
ریاست نے بلوچستان کو کیا دیا؟ کچھ نہیں!نہ سڑکیں دی، نہ اسپتال دیے، نہ اسکول دیے، نہ تعلیم — بس ظلم کی تعلیم ہے۔
میں زاکر جان کی ماں ہوں۔ میں نے اس ریاست سے کبھی انصاف نہیں دیکھا۔ زاکر کبھی میرے دل سے نہیں نکلتا۔ ہر لمحہ وہ مجھے یاد آتا ہے۔ میں اُٹھوں، بیٹھوں، سوتی ہوں، ہر وقت زاکر یاد آتا ہے۔ جیسے اُس وقت نیند نہیں آتی تھی، ویسے ہی اب بی وائی سی کے لیڈرز کے لیے بھی نیند نہیں آتی۔
میں اپنے معذور بیٹے بیبرگ کو سلام پیش کرتی ہوں۔
میں اُن سب کی ماؤں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہتی ہوں کہ ہمیں انصاف دو — یا ہمیں اور ہمارے بچوں کو جینے دو۔


