Oplus_16908288

راسک(ھمگام نیوز) اطلاع کے مطابق، جمعرات 11 جون 2026 کو راسک کے علاقے فیروزآباد میں واقع دریا کے اندر قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے ایک سوخت بردار (ایندھن لے جانے والی) گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کی۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ شام کے وقت پیش آیا، جب سیکیورٹی اہلکاروں نے دورانِ سفر گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد گولیاں گاڑی کے ٹائروں کو لگیں، تاہم ڈرائیور اور دیگر سوار محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اگرچہ اس واقعے میں کوئی ہلاکت یا زخمی نہیں ہوا، لیکن بلوچ سوخت برداروں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری سخت کارروائیاں ان شہریوں کی جانوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہیں، جو معاشی مشکلات کے باعث اس پیشے سے وابستہ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 کے دوران کم از کم 173 سوخت بردار ہلاک اور 132 زخمی ہوئے۔ ان میں سے 131 افراد ٹریفک حادثات میں جان کی بازی ہار گئے جبکہ 80 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں، جن میں فائرنگ، بارودی سرنگوں کے دھماکے، تعاقب اور تشدد شامل ہیں، کے نتیجے میں 37 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے۔

اسی عرصے میں دو افراد سوخت برداری کے دوران ڈوب کر جاں بحق ہوئے۔ آتشزدگی کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوئے، جبکہ نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد مارے گئے اور ایک زخمی ہوا۔ مزید برآں، سال 2025 کے دوران کم از کم 211 سوخت برداروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔