راسک(ہمگام نیوز ) تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، آج 2 اکتوبر 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر راسک کے علاقے میں بیدلد اور شوشگیم دیہات کے اطراف قابض ایرانی فوج و سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہیں، جو کئی گھنٹوں سے جاری ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق جھڑپیں آج صبح تقریباً 5:30 بجے قابض ایرانی فوج و سکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں کارروائی کے بعد شروع ہوئیں۔ مختصر وقفے کے بعد فائرنگ اور جھڑپیں دوبارہ شروع ہوگئیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض سکیورٹی فورسز نے دونوں دیہات کے اطراف پہاڑی علاقوں میں پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں اور مسلح افراد کے خلاف بھاری اور نیم بھاری ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ علاقے سے شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جھڑپوں کے مقام پر بڑی تعداد میں اضافی فوج اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھیجی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں، ہائی لکس پک اپ گاڑیاں، بعض نجی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس ایک گاڑی بھی علاقے میں پہنچائی گئی ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران نگرانی کے لیے کواڈکوپٹر ڈرونز جبکہ حملوں کے لیے خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی راسک کے ایک گاؤں کے قریب جھڑپوں کی تصدیق کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ فوج و سکیورٹی فورسز کی ان افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی جنہیں سرکاری ذرائع نے ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے۔ سرکاری میڈیا نے ایک مسلح فرد کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی ہے۔
تاہم، ہلاک ہونے والے فرد کی شناخت، اس کی وابستگی اور جھڑپ میں فریقین کے ممکنہ جانی نقصان کی مجموعی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
مقامی اطلاعات کے مطابق جھڑپیں کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ علاقے کی موجودہ صورتحال، ممکنہ ہلاکتوں اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال دستیاب نہیں ہیں۔
یہ خبر مزید معلومات موصول ہونے پر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔


