کوئٹہ (ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان سے روزنامہ توار مستونگ کو مالی بحران کے پیش نظر “توار” کی ایڈیٹوریل بورڈ نے روزنامہ توار کے فیسبک پیج پر مالی بحران سے نکلنے کیلئے بلوچ عوام سے کمک و مدد کیلئے اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ
محترم قارئین !
روزنامہ “توار” کے ای میل ایڈریس پر موصول ہونے والی سینکڑوں کے حساب سے ای میل میں توار کے قارئین اس بات پر استفسار کر رہے ہیں کہ روزنامہ توار مستونگ کی اشاعت کیونکر بند ہے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ روزنامہ “توار” مستونگ کی اشاعت مالی بحران کی وجہ سے 13 جون 2018 کے بعد سے بند ہے۔ ادارہ “توار” نے اس دوران میں ہر ممکن کوشش کی ہے۔ کہ کسی نہ کسی طرح سے اخبار کی اشاعت ممکن بنائی جائے۔ اس سلسلے میں “توار” کے ایڈیٹوریل بورڈ کی مختلف اوقات میں باقاعدگی سے میٹنگیں ہوتی رہی ہیں۔ بحث و دلائل کے بعد ادارہ توار کے ایڈیٹوریل بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچ فرزندوں سے کمک کی اپیل کی جائے، تاکہ توار کی اشاعت ایک بار پھر سے ممکن بنائی جاسکے۔
“توار” بلوچی اور براہوئی زبانوں میں ایک ماہنامہ رسالہ کی صورت اکتوبر 1992 میں منظر عام پر آیا۔ جسے ادبی، سماجی و سیاسی حلقوں میں نہ صرف خاطر خواہ پذیرائی حاصل ہوئی، بلکہ ادارہ توار کو ہر ممکن مالی مدد بھی کی گئی۔ 1997 میں ایک بار “توار” مالی بحران کا شکار ہوا۔ اور ایک سال تک بند رہا، لیکن بلوچ فرزندوں نے ایک بار پھر ادارہ “توار” کی اس حد تک مالی کمک و مدد کی کہ توار کی نہ صرف اشاعت 1998 میں دوبارہ شروع ہوئی، بلکہ اپریل 2004 میں توار کو ماہنامہ کی بجائے روزنامہ کی شکل میں نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور روزنامہ توار 13 جون 2018 تک باقاعدگی سے اشاعت پزیر رہا۔
روزنامہ توار مستونگ وہ اشاعتی ادارہ ہے جس کو ہمیشہ سے بلوچ قوم کے فرزندوں کی کمک اور سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ ادارہ اس طویل عرصے تک بلوچ قوم کے فرزندوں کے عملی کمک و مالی معاونت کی وجہ سے اس مسافت کو طے کرچکا ہے۔ اب ایک بار پھر روزنامہ توار کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں اس ادارے کو بلوچ قوم کے فرزندوں کی مالی کمک و مدد کی ضرورت ہے۔ تاکہ “توار” کی اشاعت ایک بار پھر ممکن بنائی جاسکے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل ای میل ایڈریس پر ادارہ توار کے ذمہ داران سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
tawareditorialboard@gmail.com
منجانب :- ایڈیٹوریل بورڈ روزنامہ توار مستونگ۔


