( ھمگام ویب نیوز ) شام کے مطلق العنان حکمران بشارالاسد کی حمایت کرنے والے روس نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے شام میں کسی قسم کی ‘غیرقانونی فوجی کارروائی’ کی تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہو گا۔اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے منگل کو امریکی مندوب سے مخاطب ہوتے کہا : ‘میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ جو منصوبے بنا رہے ہیں ان پر عمل کرنے سے باز رہیں۔روس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔
اس کے جواب میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے قرارداد پر ووٹنگ کو ‘مسخرہ پن’ قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ‘روس نے کونسل کی ساکھ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔’روس نے امریکہ کی تحریر کردہ مسودۂ قرارداد کو ویٹو کر دیا جب کہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ دوسری جانب روس کی جانب سے جوابی قرارداد بھی مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر پائی۔
نیبینزیا نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس کی قرارداد فوجی کارروائی کا خاص بہانہ ہے۔روس کی جانب سے یہ وارننگ اس وقت آئی ہے جب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مبینہ کیمیائی حملے کے خلاف نئی تحقیقات کی تجویز منظور نہ ہو سکی۔امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے دوما میں میبنہ ’کیمائی حملے‘ پر ٹھوس ردِ عمل ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تینوں ممالک اس کا الزام شام کے صدر بشار الاسد پر عائد کرتے ہیں جبکہ شامی حکومت اور روس اس کی تردید کی تھی۔دوما پر سنیچر کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے میں اطلاعات کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم طبی ذرائع کے مطابق مرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔سنیچر کو دوما پر ہونے والے حملے کے بعد امریکی صدر نے ایک بیان میں شام میں ‘کیمیائی حملے’ کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اس کے ذمہ داروں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر ‘کیمیائی حملے’ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شام سے متعلق ‘بڑے فیصلوں’ کے بارے میں آئندہ دو دن میں اہم فیصلہ کر لیا جائے گا۔


