کوئٹہ( ہمگام نیوز)بلوچ گہار موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں تنظیم کے نوشکی زون کے آرگنائزر بانک سیمک بلوچ کے ناگہانی وفات کو تنظیم کے لئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہاکہ بانک سیمک بلوچ تنظیم کے سینئرمخلص اور صف اول کے کیڈر تھی ۔ جو بلوچ گہار موومنٹ کے پلیٹ فارم سے منسلک اور نوشکی زون کے آرگنائزر تھے انہوں نے نوشکی میں بلوچ گہار موومنٹ کوفعال اور متحرک کرنے کے لئے اپنی تمام تر صلاحتیں بروئے کار لاتے ہوئے بلوچ خواتین کی قومی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لئے گراں قدر کوششیں کیں بلوچ گہار موومنٹ کے مظاہروں اور پروگراموں میں ہمیشہ ہر اول دستہ کے طور پر شریک رہی گزشتہ دنوں ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی اور وہ مختصر علالت کے بعدہم سے جسمانی طور پر جدا ہوگئی ان کی جسمانی علیحدگی تنظیم کے لئے ایک خلاء ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ترجمان نے بانک سیمک بلوچ کو قومی آزادی کی جدوجہد میں بے لوث خدمات اور کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ تنظیم ایک علمی فکری انقلابی ونظریاتی ساتھی سے محروم ہوگئی ان کی سوچ و فکر اور جدوجہد بلوچ خواتیں کے لئے مشعل را ہ ہے ترجمان نے کہاکہ آزادی برابری انصاف اور ایک سیکولر قومی و انسانی سماج کی تشکیل میں بانک سیمک بلوچ کی قائدانہ کردارکو ہمیشہ نیک نگاہوں سے دیکھا جائیگا اور ان کی ارمانوں کی تکمیل کے لئے تنظیم تجدید عہد کرتے ہوئے ان کی سوچ و فکر کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے قومی آزادی کی جدوجہد میں بلا تفریق خواتین کی شرکت کویقینی بنانے کی تمام کوششوں کو بروئے کار لائے گی بانک سیمک بلوچ کا کردار اسلئے منفرد ہے کہ وہ تمام تر سماجی بندشوں اور رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خواتین کو اپنی عظیم قومی فرائض سے آگاء کرکے بلوچ خواتین کی آزادی کی جدوجہد میں شرکت کواپنی ترجیحات اول سمجھتے ہوئے ہمیشہ سنجیدگی اورزمہ داری کے ساتھ تنظیم کے لئے کام کی ترجمان نے کہاکہ بانک سیمک بلوچ خواتین کو اپنی طاقت کا احساس دلاتے ہوئے ہمیشہ بلا تفریق جنس جدوجہد آزادی کے لئے زہنی اور نظریاتی طور پر مسلح کرنے کی کوشش کی اور سماج میں خواتین کے نا برابری اور ریاستی اور دقیانوسی خیالات اور گمراہ کن سوچ کے خلاف جدوجہد کرتے خواتین کا بلا تفریق انقلابی جدوجہد پر زور دیتے ہوئے اس نقطے کی وضاحت کی بلوچ سماج خواتین کی آزادی اور جدوجہد پر یقین رکھتی ہے خواتین کو جدوجہد سے روکنے کا عمل محض ریاست اور ان کے مقامی اشرافیہ کا سوچ ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ریاست کی پروپیگنڈہ کا حصہ بن چکے ہیںیہ ایک نوآبادیاتی سوچ ہے کوئی بھی نظریہ اور کوئی بھی سماج خواتین کی برابری سے انکار نہیں کرسکتا ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلوچ قوم کی تاریخ زبان سوچ روایات اور کلچر کو مسخ کررہی ہے اگر خواتین قومی آزادی کی جدوجہد میں اپنی کردار اداکرے تو آزادی بلوچ کا ناگزیر مقدر بن سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کا حاصل مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام تر انقلابات میں خواتین نے کلیدی کردار اداکیا خواتین کا کردار انسانی سماج میں ہمیشہ اپنی سیاسی معاشی سماجی اور قومی حقوق کے لئے نمایاں رہاہے ترجمان نے کہاکہ بانک سیمک بلوچ کا کردارخواتین کے لئے رول ماڈل ہے انہوں نے بلوچ خواتین کو درس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کہ فرسودہ اور رجعتی خیالات کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار پھینک کربلوچ قومی آزادی کے جدوجہد مین سیاسی و سماجی دھارے کا حصہ بن کر ایک آزاد خوشحال اور باوقار بلوچ مستقبل پر مبنی بلوچ ریاست کی تشکیل میں منظم اور شعوری طور پرشریک ہوکر مرد وزن کی تفریق سے بالاتر رہتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ جدوجہد کریں۔


