پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںزاہدان جیل دو بلوچ سیاسی قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

زاہدان جیل دو بلوچ سیاسی قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی

زاہدان (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق آج بروز ہفتہ کو طلوع آفتاب کے وقت ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر دزاپ سینٹرل جیل میں دو بلوچ سیاسی قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا، جن میں ایک نوجوان بھی شامل تھا۔

ان دونوں قیدی میں سے ایک نوجوان “محسن کمبرزہی” ولد جمان اور “عین اللہ کمبرزہی” ولد عبدالرحمن کے ناموں سے انکی شناخت کی گئی ہے ان دونوں کا تعلق زاہدان شہر کے گاؤں شندک سے ہے۔

کہا جاتا ہے کہ محسن ایک نوجوان تھا اور گرفتاری کے وقت اس کی عمر صرف 16 سال تھی۔

عین اللہ اور محسن، جو کزن ہیں، کو 2012 میں ” بد امنی اور حکومت مخالف گروہوں کے ساتھ تعاون” اور “قومی سلامتی کے خلاف اقدامات” کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں دزاپ/زاہدان کی انقلابی عدالت نے جج مہدویان کے فیصلے کے تحت موت کی سزا سنائی تھی۔

ان دونوں قیدیوں کو دزاپ انٹیلی جنس نے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں وکیل تک رسائی اور اپنے خاندان سے رابطہ کرنے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 2018 میں بھی ان دونوں قیدیوں نے دزاپ جیل کے متعدد سیاسی اور نظریاتی قیدیوں کے ساتھ مل کر ایک خط شائع کیا تھا جس میں اس جیل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ذکر کیا گیا تھا اور قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اپنے م جسمانی تشدد کے طریقوں کا ذکر کیا گیا تھا۔

ان قیدیوں کے اہل خانہ نے پھانسی سے قبل 2 ستمبر بروز جمعہ دزاپ سینٹرل جیل میں اپنے بچوں سے آخری ملاقات کیا تھا ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز