سراوان(ھمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے سراوان کے علاقے گشت میں ایک 9 سالہ بلوچ بچی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچی کی لاش تین روز بعد کچرا پھینکنے کی جگہ سے برآمد ہوئی، جس پر جلنے کے نشانات موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 17 اپریل 2026 کو پیش آیا، جب ایران میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ بندش کے دوران نامعلوم افراد نے گشت شہر سے تعلق رکھنے والی بلوچ بچی کو اغوا کیا۔
مقتولہ بچی کی شناخت فاطمہ زہرا حسینبر کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 9 سال تھی۔ وہ یونس کی بیٹی اور سراوان کے علاقے گشت شہر کی رہائشی تھیں۔
ذرائع کے مطابق فاطمہ زہرا 17 اپریل 2026 کو اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہوئیں، جس کے بعد اہلخانہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر ان کی تلاش شروع کر دی۔ تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے باعث واقعے کی اطلاع وسیع پیمانے پر نہیں پہنچ سکی اور تین روز تک بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ذرائع کے مطابق 20 اپریل 2026 کو تقریباً سہ پہر 3 بجے بلدیاتی کارکن جب کچرا منتقل کرنے کے لیے کچرا گاہ پہنچے تو وہاں ایک پلاسٹک میں لپٹی ہوئی بچی کی لاش ملی، جس پر جلنے کے آثار بھی موجود تھے۔ بلدیاتی اہلکاروں نے واقعے کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی۔
اہلخانہ کی جانب سے فراہم کردہ طبی قانونی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر موت سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے ہاتھ اور پاؤں ٹوٹے ہوئے تھے اور گلا دبانے کے بعد جسم پر نوکیلی چیز کے وار کے نشانات موجود تھے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ فاطمہ زہرا کے اہلخانہ کو شبہ ہے کہ شناخت چھپانے کے لیے اس کے چہرے پر تیزابی مواد ڈالا گیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ یا سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
فاطمہ زہرا حسین بر کی تدفین 21 اپریل 2026 کو گشت شہر، ضلع سراوان میں کی گئی۔
رپورٹ کے وقت تک، واقعے کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود، بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کی شناخت، قتل کی وجوہات اور عدالتی کارروائی کی پیش رفت کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آسکیں۔ حکام کی جانب سے بھی اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران بھر میں وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے خبروں کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے ۔


