Homeخبریںسراوان میں شدید جھڑپیں جاری، مسلح افراد کی مزاحمت؛ علاقے کا محاصرہ،...

سراوان میں شدید جھڑپیں جاری، مسلح افراد کی مزاحمت؛ علاقے کا محاصرہ، شہریوں کی آمدورفت بند

سراوان(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر سراوان کے علاقے بخشان میں قابض ایرانی سکیورٹی اور دیگر فورسز اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپیں سات گھنٹے گزرنے کے باوجود جاری ہیں۔ علاقے میں مسلسل شدید فائرنگ اور متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ہفتہ 12 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 4 بجے بخشان کے علاقے میں فوجی و سکیورٹی فورسز اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی، جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اب بھی فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 100 فوجی اور سکیورٹی اہلکار جھڑپ کے مقام پر موجود ہیں، جبکہ مزید کمک بھی علاقے میں بھیجی گئی ہے۔

علاقے کے اطراف متعدد ایمبولینسیں بھی موجود ہیں، جبکہ کچھ فوجی گاڑیاں اور ایمبولینسیں جائے وقوعہ اور اطراف کی سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں۔

ذرائع کے ذرائع کے مطابق جھڑپ کے مقام کی طرف جانے والی تمام گلیوں اور راستوں کو فوجی اہلکاروں نے بند کرکے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے۔ شہریوں کو علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

بعض سڑکوں پر بسیج فورسز بھی فوجی اہلکاروں کے ہمراہ گشت کرتی دیکھی گئی ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ بڑی تعداد میں سادہ لباس اہلکار بھی علاقے میں موجود ہیں۔ ان میں بعض افراد بلوچی لباس جبکہ کچھ غیر بلوچی لباس میں تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ باقاعدہ وردی میں ملبوس فوجی اہلکار بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

جھڑپ کے علاقے اور آس پاس کی گلیوں میں بڑی تعداد میں نجی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے مقامی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جھڑپ کی ویڈیو بنانے سے گریز کریں، جبکہ بعض شہریوں کو مبینہ طور پر دھمکایا بھی گیا ہے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جھڑپ بخشان کی جامع مسجد مدنی کے اطراف تک بھی پھیل گئی تھی، جو ابتدائی جھڑپ کے مقام سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مسجد اور آس پاس کے علاقوں کی طرف جانے والے راستے بھی فوجی و سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔

 فورسز جھڑپ کے مقام کی نگرانی اور مسلح افراد کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے کواڈکوپٹرز کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس سے قبل قریبی بعض گھروں کے رہائشیوں کو بھی اپنے مکانات خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایک رہائشی مکان کو بھی شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مسلح افراد کی شناخت اور ان کا کسی مخصوص گروہ سے ممکنہ تعلق سامنے نہیں آ سکا۔ جھڑپ شروع ہونے کی وجوہات بھی تاحال واضح نہیں ہیں۔

اسی طرح فوجی و سکیورٹی اہلکاروں اور مسلح افراد میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں بھی قابلِ اعتماد معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ علاقے میں موجود عام شہریوں کی صورتحال اور رہائشی مکانات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی تفصیلات بھی ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز