کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے پاکستانی وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سخت ترین آپریشن کے اعلان کے بعد ہونے والی کاروائیوں کے دوران عام لوگوں کی ہلاکت، گرفتاریوں اور گھروں کی لوٹ مار کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کاروباری حکمران مخصوص طبقہ کی سرمایہ کا بچانے کے لئے بلوچستان میں قتل عام برپا کیے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا سیاسی و معاشی بنیادوں پر قتل عام کے ساتھ ساتھ عام بلوچوں کی زندگیاں بھی ریاستی فورسز کے ہاتھوں محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ڈیرہ بگٹی، آواران، جھاؤ اور دشت سمیت گوادر سے ملحقہ علاقوں میں فوجی بربریت شدت کے ساتھ جاری ہے۔ خواتین و بچوں پر تشدد روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی اوتر کوہلو کے درمیانی علاقوں میں کاروائی کے دوران فورسز نے ایک خاتون سمیت دو نہتے افراد کو قتل کردیا۔ جھاؤ کے کئی علاقے گزشتہ دنوں سے فورسز کی تحویل میں ہیں، متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام کو بھی فورسز نے بند کررکھا ہے جس کی وجہ سے نقصانات کی تفصیلات تک رسائی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ لیکن خدشہ ہے کہ حسبِ سابق فورسز پہلے سے اپنی تحویل میں بند بلوچوں یا نہتے لوگوں کو قتل کر کے انہیں مذاحمت کار قرار دیگی۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان ایک جنگ زدہ خطہ ہے، جہاں کئی علاقوں میں عام لوگ اپنے لئے راشن و ادویات بغیر فورسز کی اجازت کے نہیں لے جا سکتے۔ بلوچستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں پچھلے تین مہینوں سے فورسز نے انٹرنیٹ سسٹم معطل کررکھا ہے۔ عام لوگ آزادی سے نہ سفر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی روز مرہ زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزار سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، جو کہ قابلِ افسوس ہے۔ بی ایس او آزاد نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورت حال کے پر امن حل کے لئے اپنا فوری کردار ادا کریں، بصورتِ دیگر بلوچستان میں ریاستی طاقت کا بے رحم استعمال مزید انسانی جانوں کے نقصان ہونے کا سبب بن سکتا ہے


