سراوان ( ھمگام نیوز) آمدہ اطلاع کے مطابق مغربی مقبوضہ بلوچستان کے شہر سراوان کے علاقے بم پشت کے رہائشی خدابخش آسکانی کا پر اسرار انداز میں قتل، رپورٹ کے مطابق خدا بخش آسکانی بلوچی زبان کا ایک شاعر تھا جس نے ایک ہفتے قبل کسی دیوان میں بلوچ و بلوچستان بارے میں ایک انقلابی شعر پڑھا تھا جس سے اس کا ویڈیو سوشل میڈیا میں آگیا اور اسے آج نا معلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے آسکانی ایک قوم دوست وطن دوست انقلابی شاعر تھا اور زیادہ تر ان کے شاعری کا مرکزی موضوع بلوچ قوم کی بد حالی و غلامی تھا، لیکن اس نے اپنی شاعری کو زیادہ عام نہیں کیا تھا جب اس کا ایک ویڈیو ایک ہفتہ قبل وائرل ہو گیا تو اسے پر اسرار انداز میں فورا قتل کر دیا گیا.
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سعید دھواری جو کہ بلوچی زبان کا ایک نامور شاعر تھا اسی انداز میں اسے قتل کر دیا گیا اور اسے ایرانی انٹیلیجنس اور پاسداران انقلاب نے قبائلی رنگ دینے کی ناکام کوشش کی .
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی دہشتگرد ادارہ پاسداران انقلاب نے مغربی بلوچستان میں کئی بلوچ قبائل میں ہتھیار تقسیم کیئے ہیں اور بلوچوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری اور آزادی کی تپش کو ختم کرنے کے لیئے مختلف طریقوں سے بلوچ سماج میں خانہ جنگی کی ایک لہر پیدا کرنا چاہتے ہیں ،جس سے کئی قبائل متاثر ہیں.
کیونکہ پاسداران انقلاب کی پروردہ ڈیتھ اسکواڈ کسی قبیلہ میں گھس کر چھپکے سے کسی بے گناہ بلوچ کو قتل کرکے اسے دوسرے قبیلہ یا گروہ پر ڈال کر پھر اسی طرح ڈیتھ اسکواڈ دوسرے قبیلہ کے کسی فرد کو قتل کرکے اسے مزکورہ قبیلے پر الزام لگاتا ہے تاکہ خانہ جنگی کی ایک ماحول پیدا ہو سکے ـ اسی طرح پاسداران انقلاب اور ایرانی خفیہ ادارے خدا بخش آسکانی کے قتل کو ایک قبائلی جنگ قرار دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں تاکہ بلوچ آپس میں دست و گریبان ہو کر اپنے اصل دشمن سے بے خبر رہے ۔آزادی جیسی عظیم نعمت سے بیگانہ ہو کر آپس میں کشت و خون میں مصروف رہیں ـ


