واشنگٹن (ہمگام نیوزڈیسک) مشرق وسطی کے کشیدہ صورتحال کے پیش نظر ہتھیاروں کے دوڑ میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم سعودی عرب کو کسی صورت ایٹمی قوت نہیں بننے دیں گے۔تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ سعودی عرب ایک جوہری قوت کا حامل ملک بن کر اسرائیل اور امریکا کیلئے خطرہ بنے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے ان خبروں پر ردعمل دیا گیا ہے جن کے مطابق سعودی عرب جوہری قوت حاصل کرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سخت ردعمل دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سعودی عرب کو کسی صورت ایٹمی قوت نہیں بننے دیں گے۔ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ہم کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ سعودی عرب ایک جوہری قوت کا حامل ملک بن کر اسرائیل اور امریکا کیلئے خطرہ بنے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی خبررساں ادارے بلومبرگ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب اپنے دارالحکومت ریاض کے قریب پہلا ایٹمی پلانٹ مکمل کرنے والا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی سیاروں کی تصاویر نے سعودی ایٹمی پلانٹ کی موجودگی ثابت کر دی ہے۔واضع رہے سعودی عرب نے ابھی تک ایٹمی تنصیبات کو کنٹرول کرنے والے بین الاقوامی ضوابط پر دستخط نہیں کئے ہیں، اس تناظر میں مذکورہ اقدام نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق پہلا سعودی ایٹمی پلانٹ کنگ عبدالعزیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سٹی ریاض کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس سعودی عرب کے مقابلے میں ایران میں قائم جوہری تنصیبات تک رسائی کی صلاحیت زیادہ ہے، ان کے اس بیان نے جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے اداروں میں سخت تشویش پیدا کردی تھی۔
جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں اس وقت یہ بحث ہے کہ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے چاہئیں یا نہیں۔ خیال رہے کہ چند روز قبل برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک رپورٹ میں امریکی سیکریٹری برائے توانائی ریک پیری کی جانب سے جوہری کمپنیوں کو سعودی عرب کو جوہری ٹیکنالوجی کی فروخت اور اس میں تعاون کی اجازت کی 6 خفیہ منطوریاں دینے کا انکشاف کیا تھا۔


