چهارشنبه, مارچ 18, 2026
Homeخبریںسعودی وزیر خارجہ کی آئی اے ای اے ڈائریکٹر سے ملاقات ایران...

سعودی وزیر خارجہ کی آئی اے ای اے ڈائریکٹر سے ملاقات ایران کے جوہری ٹھکانوں کی جامع تفتیش کا مطالبہ

ویانا (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فصل بن فرحان بن عبداللہ نے پیر کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے سرکاری دورے کے دوران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائیل گروسی سے ملاقات کی۔

سعودی وزیر خارجہ نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر سے ملاقات کے دوران ایران کے جوہری ٹھکانوں کی جامع تفتیش کا مطالبہ کر دیا ہے.
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیرخارجہ اور ائی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے ویانا میں ملاقات کی دونوں شخصیات کی بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے پیش رفت اور ایران کے تمام جوہری مقامات کی جلد اور جامع تفتیش کے لیے مطلوب میکانزم کا اطلاق زیر بحث آیا۔ اسی طرح ایران کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں اور پالیسیوں پر تبادلہ خیال ہوا جو خطے اور پوری دنیا کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

اس ملاقات میں آسٹریا میں سعودی سفیر شہزادہ عبداللہ خالد بن سلطان بھی موجود تھے۔ وہ آسٹریا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے مملکت کے مستقل مندوب بھی ہیں۔

یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے اعلی ترین نمائندے جوزپ بوریل نے باور کرایا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے ویانا میں جاری جوہری مذاکرات دشوار ہیں۔ یہ مذاکرات رواں سال اپریل میں شروع ہوئے تھے۔

ایک انٹرویو میں جوزپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران میں قیادت کی تبدیلی اور سخت گیر شخصیت ابراہیم رئیسی کا بطور صدر انتخاب کسی سجھوتے تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو معطل نہیں کرے گا۔

ادھر ایران کے سینئر مذاکرات کار عباس عراقجی نے آج اعلان کیا ہے کہ ویانا بات چیت کا مشکل حصہ ابھی تک قائم ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف مکمل ہوں گے بلکہ موجودہ حکومت کی مدت کے دوران میں (یعنی اگست کے اوائل سے قبل) ہی ایک سمجھوتے تک پہنچا جائے گا۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق عراقجی نے باور کرایا کہ اقتدار کی منتقلی کے بعد بھی ان کے ملک کا موقف ہر گز تبدیل نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ ویانا میں اب تک ہونے والے بات چیت کے چھ ادوار میں تمام معلق اور پیچیدہ مسائل کے کسی حل تک نہیں پہنچا جا سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز