Homeخبریںسندھ سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکار عاشق علی بروہی کوسندھی قوم...

سندھ سے تعلق رکھنے والے فوجی اہلکار عاشق علی بروہی کوسندھی قوم سے جذبہ خیرسگالی کے تحت آخری وارننگ کے ساتھ رہا کردیا ہے۔ بی ایل اے ترجمان آزاد بلوچ ‎

کوئٹہ (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق آج 4 نومبر، 2026 کو ترجماں آزاد بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کچھ عرصہ قبل ناکہ بندی اور چیکنگ کے دوران سندھ سے تعلق رکھنےوالے ایک فوجی اہلکار عاشق علی بروہی ولد خمیسو بروہی کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں پوچھ گچھ کے سلسلے میں خفیہ مقام پر رکھا گیا۔ ہمارے تفتیشی ادارے نے ان سے کچھ ہفتہ تک تحقیقات کی۔ ان کے موبائل فون میں موجود ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا لیکن ہمیں ان کی بلوچ جہد کاروں کو نقصان پہنچانے کی براہ راست انفرادی طور پر ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

‎

‎یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سندھی اقوام نے عمومی طور پر پوری تاریخ میں بلوچستان کی جبری قبضے کے خلاف کھل کر کبھی بھی بلوچستان کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کےلیڈرشپ نے پاکستان کے ایوانوں میں راہ کر بلوچ قوم کی استحصال میں قلیدی کردار ادا کیا۔اس کے باوجود سندھ اور بلوچستان کے تاریخی رشتوں کو مد نظر رکھتے اسے انسانی ہمدردی کے تحت اور جذبہ خیرسگالی کے طور پر آخری تنبہہ کے ساتھ رہا کر دیا ہے۔

‎

‎چنانچہ قابض پاکستانی فوج، ادارے اور  ان کے بلوچستان میں جاری استحصالی منصوبے ہر وقت ہمارے نشانے پرہیں لہذا ہم بلوچستان آنے والے سندھی اقوام کو تنبہہ کرتےہیں کہ وہ پاکستان کا ہمراہ بن کر بلوچ دشمن سرگرمیوں سے دور رہیں۔  بلوچ سرمچاروں نے ہر وقت اپنے ہمسائیہ اقوام کے ساتھ غیر ضروری ٹکراوں سے اجتناب کیا ہے اس تناظر میں سندھ کے لوگوں کو ہمارا پیغام ہے کہ اگر ان کے باشندے آئندہ پاکستان کے قابض فوج، اداروں کیلئے سہولت کاری میں ملوث پائے گئے یا بلوچستان وسائل کی استحصال میں معاونت کے دوران پکڑے گئے تو ان کے ساتھ بھی پنجابی فوج جیسا برتاو کیا جائے گا۔

‎

‎

‎ہماری جنگ بلوچستان کی آزادی اور قابض پاکستانی فوج کی بلوچ سرزمین سے مکمل انخلا تک شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔

‎

‎

‎

یہ بھی پڑھیں

فیچرز