Homeخبریںشادی کور میں جبری بے دخلی اور نقل و حرکت پر پابندیاں،...

شادی کور میں جبری بے دخلی اور نقل و حرکت پر پابندیاں، زراعت سے وابستہ افراد میں تشویش

گوادر (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے زرعی علاقے شادی کور میں جبری بے دخلی اور سکیورٹی کے نام پر نقل و حرکت پر عائد پابندیوں نے ضلع بھر میں زراعت سے وابستہ افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مقامی افراد اور زراعت کے کاروبار سے وابستہ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ زمینداروں، کسانوں اور ہاریوں کو باغات، پھلوں کے کھیتوں اور زرعی زمینوں تک رسائی سے روکنے کے باعث کروڑوں روپے مالیت کے زرعی اثاثے تباہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے سابق چیئرمین ضلع کونسل گوادر، سید معیار نوری نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شادی کور میں کسانوں اور ہاریوں کو اپنے باغات اور زرعی زمینوں تک رسائی نہ ملنے کے باعث ضلع کا سب سے بڑا زرعی علاقہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

سید معیار نوری نے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اس نوعیت کے فیصلوں پر نظرثانی کی جائے اور زمینداروں، کسانوں اور ہاریوں کو اپنے باغات اور زرعی زمینوں تک رسائی فراہم کی جائے، تاکہ علاقے کی زراعت اور ضلع گوادر کے زرعی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق شادی کور سے لوگوں کی بے دخلی کوئی ایک واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ واقعات کے ایک مسلسل سلسلے کا نتیجہ تھی، جس کے ہر مرحلے نے مقامی آبادی پر دباؤ میں اضافہ کیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق رواں سال مئی کے اوائل میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور تشدد کیا گیا، تقریباً 40 مردوں کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا اور تین روزہ ناکہ بندی عائد کی گئی۔ اس کے بعد جون بھر میں چیک پوسٹوں پر پابندیاں اور خوراک کی قلت برقرار رہی، جبکہ بالآخر جولائی میں لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کا براہِ راست حکم دیا گیا، جس کے ساتھ گھروں کو جلانے کی دھمکی بھی دی گئی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق اس معاملے میں بے دخلی کی دو مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ 9 اور 10 جولائی کو جاری کیا گیا حکم اپنے سخت قانونی مفہوم میں جبری انخلا تھا، کیونکہ لوگوں کو براہِ راست علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا اور انکار کی صورت میں گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔ اس سے پہلے کیے گئے تمام اقدامات جبری نقل مکانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سے مراد ایسے حالات پیدا کرنا ہے جو کسی آبادی کے لیے اپنے علاقے میں رہنا ناممکن بنا دیں، خواہ انہیں باقاعدہ طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا جائے یا نہ دیا جائے۔

کمیٹی کے مطابق جس وقت یہ حکم جاری کیا گیا، اس وقت تک گرفتاریاں، تشدد، جبری گمشدگیاں، قتل اور خوراک کی قلت شادی کور کے لوگوں کو اپنے گھروں اور علاقے سے نکلنے کے شدید دباؤ میں ڈال چکے تھے۔ اس حکم نے ان کے پاس موجود انتخاب کی آخری گنجائش بھی ختم کر دی۔ لہٰذا اس جبری نقل مکانی کی ذمہ داری ان لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ حالات پیدا کیے اور ان پر بھی جنہوں نے علاقہ چھوڑنے کا حکم جاری کیا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق ناکہ بندی اور خوراک کی فراہمی پر پابندیاں پوری آبادی پر عائد کی گئیں، نہ کہ صرف ان افراد پر جن پر کسی جرم کا شبہ تھا۔ کمیٹی ان اقدامات کو اجتماعی سزا قرار دیتی ہے۔

دوسری جانب، مقامی افراد نے دی بلوچستان پوسٹ کے نیوز ڈیسک کو بتایا کہ اس وقت بڑی تعداد میں لوگوں کو جبری طور پر بے دخل کیا جا چکا ہے، جبکہ سکیورٹی کے نام پر کسانوں کو اپنی تیار فصلوں تک رسائی نہ دینا، مزید آبادی کو بے دخل کرنے اور ان کی زمینوں پر قبضے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق شادی کور کے معاملے پر اب تک مقامی سطح پر سیاسی جماعتوں، ضلعی انتظامیہ اور علاقے سے منتخب نمائندوں کی خاموشی، عسکری حکام کے احکامات کی تعمیل کا تاثر دے رہی ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے جبری نقل مکانی اور تیار فصلوں تک رسائی کے معاملے پر عوامی و سیاسی نمائندوں سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہیں اس مسئلے پر خاموش رہنے کا کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز