شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق آج رات تقریباً 2:30 بجے کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی روڈ میں خفیہ اداروں، سی ٹی ڈی اور ایف سی کے اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مار کر حسان قمبرانی کو حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق سفید رنگ کی چھوٹی گاڑیوں اور سیاہ رنگ کی ویگو میں سوار ایف سی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے رات گئے گھر پر چھاپہ مار کر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کے بعد حسان قمبرانی کو اپنے ساتھ لے گئے۔
واضح رہے کہ حسان قمبرانی کو اس سے قبل بھی 14 فروری 2020 کو کلی قمبرانی سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو 15 ماہ طویل اذیت ناک گمشدگی کے بعد 7 مئی 2021 کو بازیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود آج ایک بار پھر انہیں اسی علاقے سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
حسان قمبرانی کی بہن اور معروف انسانی حقوق کی کارکن حسیبہ قمبرانی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میرے بھائی کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور ہمیں بتایا جائے کہ اس کا قصور کیا ہے۔ اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، نہ کہ اس طرح غیرقانونی طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جائے۔”
اس سے قبل بھی حسیبہ قمبرانی نے اپنے بھائی اور کزن کی بازیابی کے لیے ایک طویل جدوجہد کر چکی ہیں، مگر ریاستی اداروں کا اس طرح بار بار ایک ہی خاندان کو نشانہ بنانا ظلم اور ناانصافی کی انتہا ہے۔


