شال (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق 5 فروری 2026 کو قابض پاکستانی فورسز نے کوئٹہ سے بلوچستان یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت اسد کرد ولد ظفر اللہ کرد کے نام سے ہوئی ہے، جو بروری روڈ کوئٹہ کا رہائشی اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں بی ایس کا طالب علم ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد کرد کو 3 فروری 2026 کو سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کوئی اتا پتہ نہیں مل سکا۔ اہلخانہ نے اعلیٰ حکام اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ اسد کرد کی فوری بازیابی کے لیے ان کا ساتھ دیا جائے اور اس جبری گمشدگی کا نوٹس لیا جائے۔
اہلخانہ کے مطابق اسد ایک پرامن طالب علم ہے اور کسی غیر قانونی سرگرمی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے یا رہا کیا جائے، تاکہ خاندان میں پائی جانے والی شدید بے چینی اور خوف کا خاتمہ ہوسکے۔


