حلب (ہمگام نیوز)اقوام متحدہ نے شام میں پیر کو حلب کے قریب اپنے ایک امدادی قافلے پر حملے کے بعد ادارے کی جانب سے شام بھیجی جانے والی تمام امداد معطل کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارے نے حلب کو جانے والے امدادی قافلے کی بارے میں روس اور امریکہ سمیت شام میں موجود تمام متحارب فریقوں کو پیشگی اطلاع دی تھی اور قافلے کے پاس حلب میں امداد فراہم کرنے کا اجازت نامہ بھی موجود تھا۔اقوام متحدہ کی اس تازہ ترین پابندی سے پہلے شامی فوج کی جانب سے ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد ہی پیر کو اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر جنگی جہازوں نے حملہ کر دیا تھا جس میں قافلے میں شامل 31 میں سے 18 لاریوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ ان گاڑیوں میں موجود امدادی سامان میں گندم، موسم سرما کے کپڑے اور ادویات وغیرہ شامل تھیں اور یہ قافلہ 78 ہزار افراد کے لیے امداد لے کر جا رہا تھا۔
مبصرین کے مطابق اس فضائی حملے میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہوگئے جن میں شام میں بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کریسٹ کے ایک سینیئر اہلکار بھی شامل تھے۔
ریڈ کراس کی انٹرنیشل کمیٹی کے صدر پیٹر ماؤرِش نے امدادی قافلے پر حملے کو ’بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ‘ سے تعبیر کیا ہے۔
اروم الخبریٰ کے قصبے کے قریب کیے جانے والے اس حملے پر ’شدید غم وغصے‘ کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ ’مستقبل میں تعاون کے امکانات کا دوبارہ جائزہ‘ لے گا۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا ’شامی حکومت اور روس کو اس قافلے کی منزل کا پہلے سے علم تھا، پھر بھی شامی لوگوں کو امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے یہ امدادی کارکن مارے گئے۔‘
برطانیہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شامی یا روسی فوج کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم دمشق نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں امدادی ادارے کے سربراہ سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’سنگ دل‘ حملہ تھا اور اسے جان بوجھ کر کیا گیا جرم سمجھا جائے گا۔


