سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںشام میں فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ ’جلد‘ کر لیا جائے گا،؛امریکہ

شام میں فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ ’جلد‘ کر لیا جائے گا،؛امریکہ

واشنگٹن(ھمگام ویب نیوز ) میڈیا اطلاعات کے مطابق امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘دوما’ میں شام کے ڈکٹیٹر اور روسی و ایرانی حمایت یافتہ صدر بشارالاسد کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد اتوار کو کہا تھا کہ دوما میں ہونے والی مظالم کی ذمہ داری روس کے صدر ولادیمر پیوٹن پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ ظالم شامی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ‘تمام آپشنز موجود ہیں’ جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔جبکہ امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے ۔ تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔س سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے ۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شام میں کارروائی کرنے کا فیصلہ ’جلد‘ کر لیا جائے گا۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد وہ اور ان کی ٹیم شام کی صورت حال کو ’بہت سنجیدگی‘ سے دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں سے اس حوالے سے بات چیت کی ہے۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزامے کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کابینہ کے وزیروں نے ’کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال کو روکنے کے لیے شام میں فوجی کارروائی کرنے کی ضرورت‘ پر اتفاق کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے جمعرات کو رات گئے امریکی صدر سے بات چیت کی اور اس بات سے اتفاق کیا ہے شام کے معاملے پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ادھر شام کے اتحادی روس نے ایسی کسی بھی کارروائی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز