شام(ہمگام نیوز) شام کے صدارتی الیکشن کے سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں بشار الاسد چوتھی بار اگلے سات سال کیلئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق بشار الاسدنے 95 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ 55 سالہ اسد سال 2000 سے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ یہ انتخابات سرکار کے کنٹرول والے علاقوں اور کچھ ممالک میں شام کے سفارت خانوں میں کرائے گئے تھے۔ بشار الاسد کے مدمقابل انتخابات میں دو امیدواران ہیں جن میں سابق وزیر مملکت عبداللہ سلوم عبداللہ اور ایڈوکیٹ محمود مرعی تھے۔
بشار الاسد نے اپنے والد مرحوم حافظ الاسد کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا، جنہوں نے 25 سال سے زیادہ عرصے تک شام پر حکومت کی تھی شام کی اپوزیشن جماعتوں چناؤ ایک ڈھونگ قرار دیا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ملکوں نے بھی کہا ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھے۔
یاد رہے شام میں 10 سال سے جاری ٹکراؤ اور لڑائی سے کافی تباہی ہوئی ہے اور کم از کم 3 لاکھ 88 ہزار افراد مارے جاچکے ہیں، شام کی آدھی آبادی کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اِن میں تقریباً 60 لاکھ پناہ گزینوں نے دیگر ملکوں میں پناہ لے رکھی ہے ایک طویل ٹکراؤ کے بعد یہ انتخابات منعقد کروائے گئے ہیں۔ سن 2011 کے اندر خانہ جنگی کا آغاز ہوا تھا جس کے بعد ہونے والے یہ دوسرے صدارتی انتخابات ہیں۔


