Homeخبریںمولوی عبدالباسط سجستانی کا تفتان اور فاریاب میں بلوچ خواتین پر تشدد...

مولوی عبدالباسط سجستانی کا تفتان اور فاریاب میں بلوچ خواتین پر تشدد کی مذمت، مقامی وسائل پر عوام کے حق پر زور

زاہدان (ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، 20 جون 2026 کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شمالی علاقے اسلام آباد کے مولوی عبدالباسط سجستانی نے اپنے خطبۂ جمعہ میں تفتان اور فاریاب میں احتجاج کرنے والی بلوچ خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، تشدد اور گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

 

مولوی سجستانی نے کہا کہ احتجاج کرنے والی خواتین دراصل اپنے حقوق اور اپنی سرزمین کے وسائل کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہی تھیں، لیکن انہیں تشدد، مارپیٹ اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 

انہوں نے بلوچ خواتین کی بے حرمتی سے متعلق رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی بھی ہوئی ہو تو اس کے باوجود قانونی اور انسانی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ خواتین کے معاملات میں خاتون پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود مرد اہلکاروں کی جانب سے اس نوعیت کا رویہ کیوں اختیار کیا گیا۔

 

امام جمعہ اسلام آباد نے مزید کہا کہ ہر علاقے کے معدنی وسائل بنیادی طور پر اسی علاقے کے عوام سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مقامی باشندوں کو ان وسائل کے فوائد اور معاشی مواقع میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ معدنی منصوبوں میں مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور اقتصادی شراکت کو اولین ترجیح دی جائے۔

 

انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچ خواتین کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی سنجیدہ تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ تمام ذمہ دار اداروں کی ذمہ داری ہے۔

 

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 17 اور 18 جون 2026 کو بالترتیب تفتان کے سرسیاه نوک آباد اور کرمان کے فاریاب ضلع کے پشموکی علاقے میں احتجاج کرنے والی بلوچ خواتین کے اجتماعات پر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق ان خواتین نے معدنی سرگرمیوں کے نتیجے میں ماحولیات، زراعت اور مویشی بانی کو پہنچنے والے نقصانات، مقامی وسائل کے استعمال میں مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیں

فیچرز