(ہمگام نیوز ) انسان کے نفسیاتی مسائل اور امراض پر میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی کے تحقیق کاروں نے پاپولیشن جینیٹک کے ڈائریکٹر بین نیل کی سربراہی میں 600 سے زائد طبی مراکز کے تحقیق کاروں کی مدد سے ذہنی اور نفسیاتی مریضوں کے دو گروہ کا وسیع سائنسی مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ نفسیاتی امراض موروثی ہوسکتے ہیں البتہ ذہنی امراض دماغ یا نیورون میں پیدا ہونے والی خرابی کا باعث ہو سکتے ہیں۔تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق نفسیاتی امراض بھی موروثی ہوتے ہیں بالخصوص شیزو فرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر کے نسل در نسل منتقل ہونے کے شواہد ملے ہیں تاہم ذہنی امراض جیسے پارکنسن اور الزائمر نیورو لوجیکل ڈس آرڈر کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ نفسیاتی امراض بھی محض کسی دماغی یا نیورون کی خرابی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ کے تازہ تحقیق میں سائنس دانوں کا دعویٰ ہے کہ نفسیاتی بیماریاں مثلاً شیزو فرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر موروثی طور پر نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں جب کہ ذہنی امراض کا تعلق نیورو لوجیکل ڈس آرڈر سے ہوتا ہے۔اس تحقیق سے نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد ملے گی تاہم ابھی تک اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے اور جینوم تھراپی کے ذریعے اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے اگر سائنس دان اپنی اس کاوش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نفسیاتی طور ابنارمل نفسیاتی لوگوں کی خودکشی پر آمادہ کرنے والے ان نفسیاتی امراض سے نجات پانا آسان ہوجائے گا۔ کسی بھی انسان کے نفسیاتی امراض کے شکار ہونے میں مورثی عوامل کے ساتھ اس کے اور وجوہات شامل ہیں۔مثلا سماجی ناہمواری ،معاشی دباو،معاشرتی دباو،مریض کے تنہا ہونے کا خوف ،خاندانی مسائل وغیرہ شامل ہے۔نفسیاتی امراض جس میں شدیدزہنی دباو،غمگین ہونا،درد کو دوائی سے زیادہ انسانی مثبت ہمدردانہ بھائی چارگی،خلوص اورمکمل بھروسہ و اعتماد کی دوستی جیسے رشتوں سے اس امراض پر کافی حد تک قابو پایا جاسکتاہے۔مزید یہ کہ اسپورٹس ،جسمانی ورزشیں، ثقافتی ڈانس وغیرہ کیھلنا بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔نفسیاتی امراض کے کچھ علامات جن میں یاداشت کامتاثر ہونا،دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے سے کترانا،تشویش وسوسوں میں مبتلا ہونا،نیند کے مسائل آرام سے نہ سونا،بدہضمی،ایسے مسائل کا شکار ہونا جن کو بیان نہ کرسکنا یا وضاحت میں مشکل پیش آنا،انتقامی ہونا،حسد کرنا،برداشت کا فقدان ہونے جیسے وہ نفسیاتی مسائل ہے جو انسانی کی زندگی کو اجیرن بناکر دستیاب خوشی سے محروم ہوکر انسان شب وروز تکلیف کی زندگی گزار دیتا ہے۔