کچھی(ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان سے ریاستی جبری گمشدگی کے نشانہ بننے والے علی احمد راہیجہ کو پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم وہ اب تک بازیاب نہ ہوسکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق علی احمد راہیجہ والد جمعہ خان سکنہ آب گم مچھ ضلع گچھی کے رہائشی ہیں جن کو ان کے آبائی علاقے مچھ ضلع کچھی سے قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے گیارہ رمضان المبارک جولائی 2015 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنا کر لاپتہ کردیا۔ ان کو اب پانچ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم وہ اب تک بازیاب نہیں ہوسکے۔
علی احمد راہیجہ کے لواحقین انتہائی کرب والم سے گزر رہے ہیں اور انہوں نے حکام بالا سے درخواست کی ہے کہ ان کو بازیاب کرکے ان کے بوڑھے ماں باپ کو کرب و الم کی زندگی سے نجات دلائی جائے۔
مقبوضہ بلوچستان سے قابض پاکستانی فوج کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار افراد کی باحفاظت بازیابی کی جدوجہد کرنی والی تنظیم وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز نے حکام بالا سے کئی بار درخواست کی ہے کہ لاپتہ افراد کو باحفاظت بازیاب کیا جائے اگر وہ کسی جُرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔


