سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںغزنی،جنگ کےزخمی طالبان کو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کیا جارہا ہے،؛افغان صدر...

غزنی،جنگ کےزخمی طالبان کو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کیا جارہا ہے،؛افغان صدر ڈاکٹراشرف غنی

کابل (ہمگام نیوز ویب ڈیسک) حالیہ دنوں افغانستان کے ولایت غزنی میں پاکستان،ایران،روس کی حمایت افغان طالبان نے اس شہر پر چاروں اطراف سے حملہ آور ہو کر قبضہ کرنے کی کوشش کی جس کو افغان سیکورٹی فورسز نے امریکی فضائی مدد سے ناکام بنادیا ،اس جنگ میں عام شہری ،طالبان جنگجو اور افغان سیکورٹی فورسز مجموعی طور پر پانچ سو کے قریب افراد جانبحق ہوئے۔ جبکہ بہت سے طالبان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں ۔ اس جنگ زدہ شہر کا افغان صدر محترم ڈاکٹراشرف غنی صاحب نے دورہ کرکے وہاں کے سیکورٹی فورسز، علمائے دین اور قبائلی مشران و معتبرین کے اجتماع سے خطاب کیا، جس میں صدر اشرف غنی نے کہا ” جنگجو لڑائی میں شریک ہونے کے لیے سرحد پار پاکستان سے آتے ہیں” ۔ڈاکٹر غنی نے لڑائی کے شکار اس شہر کا دورہ کیا، جہاں چند ہی روز قبل امریکی فضائی فوج کی مدد سے افغان افواج باغی سرکشوں کو غزنی سے نکال باہر کرنے کے لیے نبردآزما ہیں، حالانکہ مضافاتی اضلاع میں جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔غنی نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ، جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے حالیہ دورے میں اُنہیں یقین دلایا تھا کہ سرحد پار سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ڈاکٹر غنی نے کہا کہ ’’جنرل باجوہ آپ نے ہمارے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے تھے اور ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں بارہا کہا تھا کہ جب (پاکستان میں) انتخابات ہو جائینگے، آپ اس جانب دھیان دینگے۔ اب مجھے جواب دیا جائے وہ کہاں سے آئے اور انہیں آپ کے ہسپتالوں میں طبی امداد کیوں فراہم ہو رہی ہے؟‘‘پاکستان فوج کی جانب سے افغان صدر ڈاکٹر غنی کے اس بیان کا ابھی تک فوری رد عمل نہیں آیا۔ جبکہ جمعرات کو ان کے وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے غزنی کے تنازعے میں پاکستان کے منسلک ہونے کی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جن میں یہ الزامات بھی شامل ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کو پاکستانی ہسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے۔ان کے ترجمان نے اسلام آباد میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’اِن جعلی الزاموں کا ہمیں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اور ہم اِن بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔
ایک ہفتہ قبل طالبان نے غزنی شہر پر دھاوا بول کر چاروں اطراف سے حملہ کر دیا تھا ، کئی روز سے جاری جھڑپوں کے دوران کم از کم 500 کے قریب افراد جانبحق ہو چکے ہیں، جن میں سرکاری فوجی، باغی اور شہری شامل ہیں۔
افغانستان کا کہنا کہ سرکش طالبان کو ہمسایہ پاکستان کے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔جو کہ حالیہ دِنوں غزنی کے جنوب مشرقی شہر میں افغان افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز