(ہمگام نیوز) فلیٹ ارتھ سوسائٹی کے ممبرز یقین رکھتے ہیں کہ زمین کروی یعنی گلوب کی طرح نہیں بلکہ فلیٹ یعنی چپٹی ہے- یہ حضرات فلیٹ زمین کا مرکز قطب شمالی کو سمجھتے ہیں اور جسے ہم اور آپ جنوبی قطب کہتے ہیں اسے فلیٹ ارتھرز ایک نقطہ نہیں بلکہ فلیٹ زمین کا آخری حصہ تسلیم کرتے ہیں جہاں برف کی دیوار زمین کے ختم ہونے کی نشانی ہے- اب یہ ممبرز بحری جہاز سے جنوبی قطب تک جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں تاکہ زمین کی اس حد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور بقول ان کے سائنسدانوں کے جھوٹ کا پول کھل سکیں
یہ لوگ سنہ 2020 میں ایک کروز (cruise) کا پروگرام بنا رہے ہیں جس میں فلیٹ ارتھرز کو انٹاکٹکا کے سمندر تک لے جایا جائے گا- اس کروز کے دوارن فلیٹ ارتھرز کے کنونشنز ہوں گے جن میں فلیٹ ارتھ تحریک کے سرکردہ افراد کروز میں شامل لوگوں کو زمین کے فلیٹ ہونے کے ثبوت فراہم کریں گے- فلیٹ ارتھرز کے مطابق جنوبی قطب محض ایک نقطہ نہیں ہے جو کروی زمین کے محور پر واقع ہے بلکہ جسے سائنسدان جنوبی قطب کہتے ہیں وہ فلیٹ زمین کا کنارہ ہے جس کے آگے کچھ بھی موجود نہیں ہے- ان میں سے کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ زمین کے کنارے سے آگے آپ خلا میں گر جائیں گے بلکہ اس مقام پر زمین کے کنارے آسمان سے جڑے ہوئے ہیں یعنی آسمان ایک گنبد کی طرح ہے جو قطب شمالی پر تو زمین سے بہت اونچا ہے لیکن زمین کے کناروں پر یعنی اینٹارکٹکا میں آسمان زمین کے کناروں سے جڑا ہوا ہے- اس وجہ سے وہاں تک پہنچنے پر ہم زمین سے نیچے نہیں گریں گے بلکہ وہاں ہم ایک برف کی عمودی چادر پائیں گے جو آسمان تک جاتی ہو گی
فلیٹ ارتھرز کا یہ یقین ہے کہ اقوام متحدہ کی فوجیں لوگوں کو اینٹارکٹگا جانے سے زبردستی روکتی ہیں تاکہ لوگوں کو فلیٹ ارتھ کے بارے میں علم نہ ہو سکے- اگرچہ اس سے پہلے جنوبی قطب پر بہت سے لوگ جا چکے ہیں اور سائنس دانوں کا باقاعدہ ایک کیمپ ہے جو جنوبی قطب پر واقع ہے جس کا نام Amundsen–Scott South Pole Station ہے- تاہم فلیٹ ارتھرز ان تمام لوگوں کو جھوٹے قرار دیتے ہیں جو ایسے سفر کا دعوی کرتے ہیں چنانچہ اب فلیٹ ارتھ خود انٹارکٹکا پر جا کر یہ ثابت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے درست تھے اور تمام سائنس دان مل کر زمین کو کروی ثابت کرنے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں


