سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںماسکو میں افغان طالبان کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت

ماسکو میں افغان طالبان کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت

ماسکو (ہمگام نیوز ڈیسک )روسی خبررساں ادارے کے مطابق امن کونسل کے ترجمان احسان طاہری نے کہا: ‘ہم نے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے موضوع پر بات کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے جگہ اور وقت مقرر کریں۔’یہ کانفرنس ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکہ کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد بھی طالبان کے ساتھ قطر میں ایک الگ ملاقات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ‘ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیاسی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک اور علاقائی شراکت دار بھی فعال طریقے سے اس میں حصہ لیں۔’افغانستان کی امن کونسل کے ارکان نے جمعے کے روز ماسکو میں ایک کثیر ملکی کانفرنس کے دوران طالبان کے ایک وفد سے ملاقات کی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے کسی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہو جس سے افغانستان کے تنازعے کے سیاسی حل کی امید روشن ہو گئی ہے۔روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ‘ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیاسی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک اور علاقائی شراکت دار بھی فعال طریقے سے اس میں حصہ لیں۔’مغربی ممالک اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت روس میں ہونے والے آج کے اس اجلاس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس عمل کی قیادت افغانستان کو کرنی چاہیے۔طالبان کے پانچ رکنی وفد کے علاوہ اس اجلاس میں پاکستان، انڈیا، چین، امریکہ، قطر اور دوسرے ملکوں کے علاوہ کئی اہم افغان سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں سے بعض کے اشرف غنی کی حکومت سے اختلافات چل رہے ہیں۔طالبان نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس کانفرنس میں کسی مخصوص دھڑے سے ملاقات نہیں کر رہے بلکہ ‘اس میں افغانستان کے مسئلے کے حل اور امریکی موجودگی کو ختم کرنے پر جامع مذاکرات ہوں گے۔طالبان اشرف غنی کی حکومت کو امریکہ کی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں اس لیے وہ ان سے براہِ راست بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ اصل کھلاڑی امریکہ سے بات کی جائے اور اسی ضمن میں ان کی قطر میں امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد سے مذاکرات طے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز