ہمگام اداریہ ۔۔۔۔۔ مڈل ایسٹ میں موجود امریکی افواج کی ٹاپ کمانڈر جنرل فرنک مکنزی عرب خلیج پہنچ چکے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی جنرل اس وقت اپنے جہاز میں سوار ہوا جب یہ خبر آئی کہ ایران نے عرب امارات کی ایک آئل ٹینکر، ریاح، کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ جنرل مکنزی نے اپنے ہمراہ سی بی ایس کے نمائندے کو بتایا کہ “یہ بات بلکل واضع ہے کہ ہم ایران کی اس عمل کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں” جنرل مکنزی نے بروز منگل عمان میں قیام کیا جہاں آبنائے ہرمز عمانی ساحل کے قریب واقع ہے۔ سی بی ایس کے مطابق امریکہ عسکری طاقت کے مظاہرے پر انحصار کر رہی ہے جن میں جنگی جہاز بردار نیول بیس ابرھم لنکن اور B-52 بمبار جنگی جیٹ طیارے شامل ہے۔ اس تمام صورتحال کے بارے جنزل فرنک مکنزی کا کہنا تھا کہ “میرے خیال میں ہم نے اس جنگی تھیٹر میں تمام قوتوں کو جمع کرنے کے بعد ایران کو روکھے رکھا ہے، حقیقتا اب ہم اس مرحلے میں شامل ہوچکے ہیں جہاں وہ ازسرنوحساب کتاب لگا رہے ہے، اور ہماری نیت کا پیمائش لے رہے ہیں”۔ خیال رہے کہ دس دن پہلے برطانیہ نے ایرانی آئل ٹینکر کو اس وقت اپنے قبضہ میں لے لیا جب وہ غیر قانونی طور سوریا کیلئے تیل لے جا رہا تھا۔جسے برطانوی رائل میرینز نے طاقت کے زور پر گرفتار کرکے تحقیقات کیلئے اپنے قبضے میں لے لیا۔ جس کے ردعمل میں امریکہ کی طرف سے ڈکلیئر کردہ دہشتگرد ایرانی سپاہ پاسدارن بشمول حکومتی اعلی عہدیداران سخت سیخ پا ہوکر انتقامی بیانات دیتے رہے لیکن عملا بین الاقوامی طاقتوں کے سامنے آج تک وہ بظاہر بے بس نظر آرہے ہیں۔اور ردعمل میں بیانات کے علاوہ کچھ خاص عملی اقدامات نہیں کرسکے۔ اس بارے برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے گزشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کے اقدامات مشرق وسطی کے خطے اور عالمی امن بارے ’’انتہائی عدم استحکام‘‘ کے عکاسی کرتے ہے لیکن وہ خود مشرقِ وسطی کے کشیدہ صورتحال میں کمی چاہتے ہے۔ ایرانیوں کے رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو جبل الطارق (جبرالٹر) میں ایرانی تیل بردار بحری جہاز پکڑنے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اسے اس حرکت کا جواب دیا جائے گا۔ ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق علی خامنائی نے ایک تقریر میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے :’’ بقول ان کے برطانیہ نے بحری قزاقی کا ارتکاب کیا ہے اور ہمارا آئل ٹینکر چھین لیا ہے۔ وہ ( انگریز) پہلے ایک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور پھر اس کا قانونی جواز پیش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ایران ان کاروائیوں پر خاموش نہیں رہے گا اور ان کا جواب دے گا‘‘۔ 4 جولائی کو ایران کے آئل ٹینکر کی ضبطی کے بعد علی خامنائی کا یہ پہلا ردعمل ہے۔ جبل الطارق میں حکام نے برطانیہ کی شاہی بحریہ کی مدد سے ایران کے اس تیل بردار بحری جہاز کو پکڑ کے روکے رکھا ہے ۔اس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور شام کے لیے ایرانی خام تیل لے کر جارہا تھا۔ اس کے بعد سے ایران کے اعلیٰ حکومتی عہدے دار اور فوجی کمانڈر اس ٹینکر کو چھوڑنے کا مطالبہ کرچکے ہیں، اور وہ برطانیہ کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔علی خامنائی نے اپنی اس تقریر میں یورپی ممالک کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایران تو جوہری سمجھوتے کی پاسداری کرتا رہا ہے لیکن اس نے یورپ کے اقدامات کے ردعمل میں اس کے تقاضوں سے انحراف کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے یورپی ممالک سے براہ راست مخاطب ہوکر کہا کہ ’’جان لیجیے ،ہم نے تو ابھی اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں کمی کی ہے اور یہ عمل یقینی طور پر جاری رہے گا‘‘۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بیلیسٹک میزائل پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وائٹ ہاؤس میں وزراء کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ایران نے اس حوالے سے بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی کی جانب سے منگل کے روز جاری وارننگ نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ خامنائی کا کہنا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور ایرانی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لیے جانے کا جواب دے گا۔ مشرق وسطی اور عالمی سیاست کے اس منظرنامے میں گلف آف عمان جہاں روزانہ 50 سے زیادہ آئل ٹینکرآتے اور گزرتے ہیں۔ عرب ،اسرائیل، یورپی ممالک، امریکہ اور ایران کے درمیان اس باہمی کشمکش میں بلوچ سرزمین کی اہمیت و جغرافیائی حیثیت مرکزی کردار کی اہمیت اختیار کرگئی ہے ،خصوصا ایک ایسے وقت میں جب بلوچ سرزمین پاکستان اور ایران کے زیر قبضہ ہو،ایسے میں عالمی طاقتیں ایران سے پنجہ آزمائی کیلئے مسلسل جنگی تیاریوں میں مصروف عمل یے۔ جبکہ پاکستانی مقتدر اعلی افغان جنگ میں شامل ہونے اور اس سے ہونے والے نقصانات کو دیکھ کر مستقبل میں امکانی طور پر کسی نئے جنگ میں شامل ہونے سے پہلے کان پکڑ کسی ایسے جنگ میں دوبارہ شامل نہ ہونے کا کئی بار عندیہ دے کر اس بات کا اظہار کر چکے ہے کہ کسی نئے جنگ میں ہم غیر جانبدار رہ کر صرف مزاکرات کی صورت میں ثالثی کا کردار ادا کرسکتے یے۔ اب اگر اس جنگ سے متعلق فریقین کے کرداروں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تجزیہ کیاجائے،تو ہم اس نتیجے پر ہم پہنچ سکتے ہے کہ اس ممکنہ ایران امریکہ جنگ میں شامل تمام فریقین کے سیاسی،عسکری،مزہبی،قومی ،معاشی ،تاریخی اور تہزیبی مفادات و تضادات حقیقی ہیں، جن کا تصفیہ فی الحال جنگ کے علاوہ کسی دوسرے مزاکرات جیسے معروضی طریقے سے ممکن نظر نہیں آتا۔کیونکہ فریقین کے قومی مفادات کا باہمی ٹکراو حقیقی ہیں۔ اس کے علاوہ اس امکانی جنگ میں پاکستان کا کردار شامل ہونے کے باوجود امریکہ ،عرب اور یورپی ممالک کے لیئے اعتمادی اور اطمینانی نہیں ہوسکتا ،کیونکہ ماضی قریب میں افغان جنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی امداد مکمل طور پر بند کرکے اسے دھوکہ باز اور فراڈی ریاست قرار دے چکے ہیں۔ اس تمام قضیے میں بلوچستان کی اہمیت حقیقی اور پائیدار سمجھا جاتا ہیں۔سیاست کا یہ صحرا اس بلوچ رہبر کے سر جاتا ہے جس نے بلوچ سیاسی بساط کو اس طرح سے لمبے مدتی پالیسی کے طور پر بچھا کر رخ دیا کہ آج دنیا کے مفادات و نقصانات اور بلوچ قومی مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔یعقینا یہ خود بخود سے بقلم یک جنبش سے نہیں ہوئے بلکہ اس بلوچ رہبر نے اپنی خداداد صلاحیت،عزم مصمم اور محنت سے بلوچ نوجوانوں میں قومی نجات اور مزاحمتی جہد کو کاہان سے لے کر،سراوان،رخشان،جھالاوان ومکران کے طول و عرض میں متعارف کروایا۔ مزید یہ کہ بلوچ قومی رہنما نے بلوچ قومی سیاست کو ماضی قریب کے اشتراکی خیالی بلاک سے نکال کر طاقت کے محور مغربی حقیقی سیاست کی جانب رخ کو موڑ دیا۔گوہ کہ اس دوران انھیں قریبی حلقوں سے تعاون کی بجائے مشکلات و رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے دو دہائیوں سے جاری بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں قوم نے بیش بہا قومی قربانیوں کا خزینہ پیش کرکے بلوچ قومی سوال کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ لیکن اندرونی طور بعض حلقوں اور کردار کی جانب سے نادانیوں اور غلط فیصلوں سے گزار کر آپسی و اندرونی طور مشکلات کا شکار ہوکر ایک بھنور میں آج پھنس چکا ہیں۔وقت کی پکار یہی ہے کہ تمام قوم دوست ،وطن دوست کارکن و عہدیدار اپنے  تنظیمی عصبیت اور معدود دائروں سے نکل صرف اور صرف بلوچ قومی نجات اور وسیع تر قومی مفاد کے تعفظ کیلئے حقیقی پروگرام کی حوصلہ افزائی کرکے اپنا کردار پیش کرکے صرف اور صرف متحدہ آزاد بلوچستان کی حمایت کرکے اپنا قومی وطنی کردار ادا کرنے کے ساتھ، ساتھ ناپختہ و ناپائیدار سیاسی پروگرام کی حوصلہ شکنی کرے۔ بلوچ سیاست سے جڑے مختلف کرداروں کی طرف سے بارہا یہ سوال اٹھایاجارہاہے کہ ایران امریکہ کشمکش میں بلوچ قومی مفادات کیلئے کیا رکھا گیا ہے؟اس درمیان سب سے اولیت و اہمیت والی سوال اس طرح سامنے آجاتی ہے کہ وقت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بلوچ قومی سیاسی و مزاحمتی قوت کیسا  اور کس معیار کا ہیں؟ جبکہ آج تک ہمارے حالات یہی بتاریے ہیں کہ ہم اپنے  قومی مفاد کو دانستہ و نادانستہ طور پر پس پشت ڈال کر اپنے گروہی اور چھوٹے ،چھوٹے مفادات و اختیارات کی خاطر معدود مفادات کو اولیت دے کر اپنی قومی قوت کو تقسیم در تقسیم کیئے رکھا ہیں۔ آج یہ تقسیم و انتشاری بلوچ قوت وقت کے تقاضے پر پورا نہیں اتر رہا ۔ اور نہ ہی یہ حاصل قوت ہمارے آس پا س کے متعلقہ کرداروں کو متاثر کررہا ہے۔ بلوچ کی یہ سیاسی روش 4 دہائیوں سے مسلسل چلا آرہا ہے۔ آگر آج بلوچ قیادت سیاست کو اکیسویں صدی اور ناگفتہ بہ حالات میں واضع یک رخی سمت اور مجتمع طاقت دینے میں وقت کی نزاکت کو نہ سمجھ کر بلوچ قومی قوت کو وقت و حالات اور صروریات کے مطابق ترتیب نہ دے سکے،تو عین ممکن ہے کہ ماضی قریب کے سابقہ سوویت یونین اور امریکہ کی باہمی کشمکش کے دور کی طرح یہ وقت اور سنہری موقع ہمارے ہاتھ سے چلاجائے، لہزا بلوچ قومی نجات سے جڑے سیاسی کراداروں کی اولین قومی فرض بنتی ہے، کہ موجودہ مشرق وسطی کے علاقائی و عالمی سیاسی پینتروں کے درمیان بلوچ کے گریٹر نیشنل انٹریسٹ کو تحفظ دینے کیلئے قومی قوت کو مجتمع کرکے قابضین کے خلاف مشترکہ محاز بنا کر متحدہ آزاد بلوچستان کیلئے قومی جدوجہد اور قوت کو درست راہ پر گامزن کرے۔