کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشنوں کے دوران عام لوگوں کی ہلاکت و گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے قوانین کا احترام فورسز کی طرف سے برائے نام رہ چکا ہے۔ انسانی زندگیوں و لوگوں کی عزت نفس کی حفاظت کی زمہ داری سے ریاست مکمل طور پر دستبردار ہو چکی ہے۔ سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کی گرفتاری و ان کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے واقعات تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ 4اکتوبر کو ضلع کیچ کے علاقے گورکوپ میں ایک چھاپے کے دوران فورسز نے ایک درجن سے زائد لوگوں کو گرفتار کرلیا تھا، جن میں سے چند کو بعد میں رہا کردیا گیا لیکن اسٹوڈنٹ لیڈر شبیر بلوچ سمیت پانچ لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ اس کے اگلے روز فورسز نے کولواہ میں ایک کاروائی کے دوران لطیف ولد اللہ بخش نامی اٹھارہ سالہ نوجوان کو پانچ دیگر لوگوں کے ہمراہ گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ 15اکتوبر کو لطیف بلوچ کی لاش تربت کے علاقے آبسر سے برآمد ہو گئی جسے دوران حراست قتل کرکے لاش پھینک دی گئی۔ لطیف پیشے کے لحاظ سے ایک چرواہا تھے۔ان کاروائیوں کے علاوہ مند اور تمپ میں بھی فورسز نے کاروائیوں کے دوران متعدد لوگوں کو اغواء کرکے لاپتہ کردیا جبکہ متعدد گھر بھی نظر آتش کردئیے۔اس طرح کی کاروائیاں بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہیں۔ تین دنوں سے قلات، اور نصیر آباد کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران فورسز نے متعدد افراد گرفتار کیے ہیں جن میں خواتین کے گرفتاریوں کی بھی اطلاعات ہیں۔تاہم دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے مزید معلومات آنا ابھی باقی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جاری اس طرح کی کاروائیاں عام لوگوں کو شدید متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ خود ریاستی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ہم حکومتی زمہ داروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کو عدالتوں میں پیش کرنے اور نہتے لوگوں کو گرفتار کرنے کی کاروائیاں روکنے کے لئے فورسز پر دباؤ ڈالیں۔


