دوشنبه, مارچ 16, 2026
Homeخبریںمقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں میں مشہور آئس کریم کی...

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں میں مشہور آئس کریم کی فروخت سے انکار پر اسرائیل اتنا پریشان کیوں ہے؟

تل ابیب (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق آئس کریم کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آپ کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے لیکن اسرائیل میں آج کل یہ ایک گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔

امریکہ کے ایک بڑے آئس کریم برانڈ نے مشرقی بیت المقدس اور غرب اردن کے فلسطینی علاقوں میں اپنی آئس کریم فروخت نہ کرنے کے اعلان سے اسرائیلی حکومت کو ناراض کر دیا ہے۔

ان علاقوں میں تقریباً چھ لاکھ یہودی آباد ہیں اور یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسرائیل سنہ 1967 کی جنگ کے بعد سے متنازع بستیاں آباد کرتا آیا ہے۔

بین جیری آئس کریم کمپنی کا کہنا ہے کہ ’ان مقبوضہ علاقوں میں کاروبار جاری رکھنا اُن کی اقدار کے منافی ہے۔‘

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ان علاقوں میں بسنے والے یہودی آباد کار اگر چاہیں تو وہ اپنی پسندیدہ اس آئس کریم کو اسرائیل کے شہروں سے خرید کر کھا سکتے ہیں، جہاں یہ دکانوں پر عام دستیاب ہے۔

آئس کریم بنانے والی کمپنی کی جانب سے اس اعلان کے بعد اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کون سی آئس کریم نہیں خریدنی ہے۔ یعنی سادہ الفاظ میں انھوں نے اس آئس کریم کے بائیکاٹ کی بات کی ہے۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں نامہ نگار سیتھ فرانٹمین نے لکھتے ہوئے اپنی قارئین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ اسرائیل کو اس بین الاقوامی بائیکاٹ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے مطابق اسرائیل کی ٹیک کمپنیوں نے ’رواں برس کے صرف پہلے پانچ ماہ میں دس ارب ڈالرز کا کاروبار کیا تھا۔

انھوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ اگر بائیکاٹ ایسا ہوتا ہے تو پھر حیرانی کی بات ہے کہ بائیکاٹ کے بغیر اسرائیل کیسا ہو گا؟‘

تاہم اسرائیلی حکومت ایسا نہیں سوچتی۔ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس کے خلاف ’سخت اقدامات اٹھائیں گے جن میں قانونی چارہ جوئی جیسا سنگین اقدام بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی حکومت کیوں اس بائیکاٹ پر اتنی تشویش میں نظر آتی ہے اس کی ایک وجہ فلسطینی کارکنوں میں اس بائیکاٹ کو لے کر خوشی منانا ہے۔

وہ آئس کریم بنانے والی کمپنی کے اس اقدام کو ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

فلسطینی تحریک یکجہتی کے آفیشل اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ بہت بڑی بات ہے، تاریخ بدل رہی ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ آئس کریم کمپنی کی جانب سے بائیکاٹ اسرائیل پر فلسطین کا قبضہ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہے

بین اینڈ جیری دنیا کا ایک نامور آئس کریم برانڈ ہے، یہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مقبول ترین آئس کریم ہے جس کے دنیا بھر میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی فروخت ہے۔

اس کمپنی کو دو یہودی امریکی دوستوں نے چھوٹے پیمانے پر شروع کیا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بہت تیزی سے ترقی کی اور آخر کار اسے مصنوعات بنانے والی بڑی کمپنی یونی لیور نے خرید لیا۔

امریکہ میں بین اینڈ جیری کو بہت سے لوگ آزاد امریکہ کی نشانی کے طور پر جانتے ہیں۔ یہ کمپنی لسانی برابری، موسمیاتی تبدیلی اور ہم جنس پرستوں کے حقوق جیسے معاملات پر بہت متحرک ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت کے دوران اس کمپنی نے اپنی آئس کریم کا ایک نیا فلیور ’پیکن ریزیسٹ کے نام سے متعارف کروایا تھا جس کا مقصد سابق صدر کی پالیسیوں پر تنقید کرنا تھا۔

ایک بائیں بازو کی یہودی نیوز سائٹ جیوئش کرنٹ کے مصنف الیکس کین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریوں‘ میں بین اینڈ جیری کی مصنوعات کی فروخت بند کرنے کے فیصلے کے مضمرات اسرائیل فلسطین تنازع پر امریکی بحث کے اثرات سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ آزاد خیال افراد میں یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کی اب مزید حمایت نہیں ہو گی۔

فلسطینی حقوق کی تنظیم بائیکاٹ، ڈائویسٹ اینڈ سینکشن (بی ڈی ایس) کے مطابق یہ جبری آباد کاری کے ساتھ نسلی عصبیت ہے۔

فلسطینی کارکن ماضی میں جنوبی افریقہ کو نشانہ بنانے والے نسل پرستی کے خلاف تحریک سے متاثر ہو کر، نہ صرف بستیوں سے، بلکہ پورے اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے نسلی عصبیت کے الزامات کو مسترد کیا ہے جبکہ بی ڈی ایس تحریک نے اس پر سخت ردعمل دیا ہے۔

سنہ 1994 میں سفید فام اقلیت کی حکومت کے خاتمے کے دوران، جنوبی افریقہ کے سامان اور خدمات کے بین الاقوامی بائیکاٹ نے بہت ساری کمپنیوں کو نسلی امتیاز والی حکومت سے اپنے کاروبار ختم کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

یہ ایک بنیادی سطح کی تحریک تھی جس نے 1980 کی دہائی میں سپر مارکیٹوں میں جنوبی افریقی مصنوعات کے بائیکاٹ پر مجبور کیا تھا، بینکوں کو ملک میں کام کرنے سے روکا تھا اور جنوبی افریقہ کو عالمی سطح پر منقعدہ کلچرل اور کھلیوں کے مقابلوں سے علحیدہ کر دیا تھا۔

بائیکاٹ کا بین الاقوامی مطالبہ سب سے پہلے 1959 میں لندن کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا، جس میں تنزانیہ کے مستقبل کے صدر جولیس نیئر تھے، جنھوں نے برطانوی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’کسی خاص چیز کا مطالبہ نہیں‘ کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم صرف آپ سے جنوبی افریقی مصنوعات نہ خرید کر نسلی عصبیت کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز