ہمگام نیوز::یورپی یونین اور ترکی کی کوشش ہے کہ بحیرہ ایجیئن کے خطرناک راستے سے یونان پہنچنے والے شامی مہاجرین کی بڑی تعداد کو روکا جائے لیکن اس پورے بحران میں افغان مہاجرین نظر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
افغان تارکین وطن اور مہاجرین کے یورپ میں پناہ حاصل کرنے کے امکانات قدرے کم ہیں۔ اس بحران میں پہلی ترجیح شامی مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ترکی میں افغان مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو بحیرہ ایجیئن کو عبور کر کے یونان پہنچنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ترکی میں موجود شامی مہاجرین کی تعداد 2.7 ملین کے قریب بنتی ہے۔ ان مہاجرین کو یورپ میں داخل ہونے سے روکنے کی خاطر یورپی یونین اور ترکی کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوششوں میں ہیں۔
اس تناظر میں ترکی میں شامی مہاجرین کے لیے خصوصی مہاجر سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں شامیوں کو طبی امداد کے علاوہ دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ شامی بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف ترکی میں موجود افغان مہاجرین ان سہولہات سے محروم ہیں۔ امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے ترک ساحلوں پر موجود افغان مہاجرین کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یورپی پارلیمان کی ترکی کے لیے مندوب کاٹی پرِی نے حال ہی میں روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی یونین کی توجہ صرف شامی مہاجرین پر مرکوز ہے اور یونین کسی دوسری طرف دیکھ ہی نہیں رہی۔‘‘ پرِی کے بقول اگر ترکی میں شامی مہاجرین کے مسئلے کا حل نکال بھی لیا جائے، تو بھی مہاجرین کا بحران ختم نہیں ہو گا کیونکہ وہاں کئی ملکوں کے ایسے باشندے موجود ہیں، جن کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔
متعدد افغان مہاجرین نے روئٹرز کو بتایا کہ انہیں گزشتہ کئی برسوں سے اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے ساتھ ابتدائی انٹرویو سے ہی روکا جا رہا ہے۔ یہی انٹرویو بعد ازاں مہاجرین کی آبادکاری کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔


