زاہدان(ہمگام نیوز ) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے معروف بلوچ عالم دین مولوی عبدالحمید اسماعیل زہی نے مہسا امینی کی شہادت کی برسی کے موقع پر ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکام عوام کی آواز سنتے اور ان کے جائز مطالبات پر توجہ دیتے تو بڑی تعداد میں شہری احتجاج کے دوران جان سے نہ جاتے۔
مولوی عبدالحمید نے 18 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ مہسا امینی کے واقعے نے ملک میں ایک عوامی تحریک کو جنم دیا، جس کے بعد زاہدان کے خونی جمعہ کا واقعہ، نومبر 2019 کے احتجاجات اور دسمبر 2025 کے واقعات بھی پیش آئے، جن میں بڑی تعداد میں شہری مظاہرین مارے گئے ۔
انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں بہت سے خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوئے اور وہ تمام متاثرہ خاندانوں کے غم میں شریک ہیں۔
مولوی عبدالحمید نے کہا، “اگر ذمہ دار حکام ایران کے عوام کی بات سنتے، ان کے جائز مطالبات پر توجہ دیتے اور ملک میں تبدیلیاں لاتے تو لوگ مارے نہ جاتے۔”
غیرملکی اور نیابتی فورسز کی مخالفت
مولوی نے ایران اور خصوصاً بلوچستان میں غیر ملکی اور نیابتی فورسز (فاطمیون اور زینبیون)کی مبینہ موجودگی پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا، “سنا جا رہا ہے کہ غیرملکی اور نیابتی فورسز کو ملک اور صوبے میں لایا جا رہا ہے۔ میں اس پالیسی میں زیادہ کامیابی نہیں دیکھتا۔ حکام کو چاہیے کہ عوام پر اعتماد کریں اور اعتماد سازی کے ذریعے ان سے کام لیں، کیونکہ مقامی لوگ دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہو سکتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “غیرایرانی اقوام اور مذاہب کے لوگوں کو ملک میں داخل نہ کریں۔ ایران ایرانیوں کا ہے اور درست پالیسی یہی ہے کہ خود ایرانیوں سے کام لیا جائے۔”
بلوچوں اور کردوں کی پھانسیوں پر تشویش
مولوی عبدالحمید نے ایران میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حالیہ عرصے میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں ان کے بقول بڑی تعداد سیاسی مقدمات سے متعلق ہے۔
انہوں نے کہا، “بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں پھانسیاں بہت زیادہ ہوئی ہیں۔ ان میں زیادہ تر سیاسی نوعیت کی پھانسیاں ہیں۔ سیاسی پھانسی اسلامی اور شرعی قوانین، بین الاقوامی قوانین اور عالمی عرف کے منافی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پھانسیوں سے متعدد ایرانی شہری متاثر ہوئے ہیں، تاہم کرد اور بلوچ شہریوں کو سب سے زیادہ پھانسیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مولوی عبدالحمید نے کہا، “بدقسمتی سے حال ہی میں جن لوگوں کو پھانسی دی گئی، ان میں زیادہ تر بلوچستان کے لوگ شامل ہیں۔ آج لوگ بھوکے ہیں، ان کی جیبیں اور پیٹ خالی ہیں اور وہ ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ ان بھوکے لوگوں کو کیوں پھانسی دیتے ہیں؟”


