راولپنڈی (ہمگام نیوزڈیسک) پاکستان میں زرائع ابلاغ میں حکومت و ریاست کی پالیسیز پر تنقید و سوالات پر سخت قسم کے پابندی کے ادارےPEMRA نے بدلتے عالمی و علاقائی حالات اور پاکستان کی سیاسی،عسکری،معاشی اور خارجہ پالیسیز کی مخدوش صورتحال میں پیمرا کی جانب سے تمام ٹی وی چینلز کو سخت ہدایت جاری کی گئی ہے کہ نیوز اور کرنٹ افیئرز پروگراموں میں پاکستان کی سلامتی کے مسائل پر بحث کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسران کو مدعو کرنے سے قبل پاکی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR ) سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔پیمرا نے مزید کہا کہ ‘ایسے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی بحث بقول ان کے زیادہ تر ریاست کے سیکیورٹی امور سے سیاست کی جانب مڑ جاتی ہے جس سے نادانستگی میں فوجی افسران سیاسی بحث میں شامل ہوجاتے ہیں‘۔
ان کے مطابق یہ صورتحال حکومت و ریاست کیلئے مشکلات و مسائل پیدا کررہی ہے۔
پیمرا نے ٹی وی نیٹ ورکس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سابق فوجی افسران کو ‘دفاعی تجزیہ کاروں‘ کے طور پر مدعو کرنے سے قبل فوج کے ISPR سے اجازت لیں اور اگر بحث میں سیکیورٹی کے امور شامل نہ ہوں تو میڈیا اپنے ان مہمانوں کا ریٹائرڈ فوجی کا نام نکال کر صرف عام ’تجزیہ کار‘ کے طور پر تعارف کرایا جائے۔
پیمرا نے ہدایت کی کہ دونوں صورتوں میں ISPR سے اجازت لینا لازمی ہوگی اور تمام میڈیا مالکان کو خبردار کیا گیا کہ وہ پاکستانی فوج ISPR کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرے۔یاد ریے رہے پاکستان کی ناکام داخلہ و خارجہ پالیسیز کی وجہ سے ریاست و حکومت کو مختلف جگہوں پر سنگین قسم کے چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے جن کے حقائق پر بات کرنے سے عوامی بے چینی میں شدید اضافہ ممکن یے ،فوج میڈیا پر دباو ڈال کر اس عوامی شعور پر پیمرا اور آئی ایس پی آر کی جانب سے پردہ ڈالا جارہا ہیں،لیکن سوشل میڈیا کے اس جدید اور تیز دور میں ایسا کرنا آسان نہیں کیونکہ عوام اصل حقائق کو جاننے کیلئے دوسرے زرائع کی جانب جلدی رخ کرکے متبادل زرائع کا استعمال کرتے ہیں۔


