لندن (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان1948 سے لے کر آج تک بلوچستان میں اپنے قبضے کو قائم رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہے۔بلوچستان میں لوگوں کی زندگیوں کو پاکستانی ریاست نے اجیرن بنایا ہوا ہے جہاں بلوچ آبادیوں کو ہوائی جہازوں اورہیلی کاپٹروں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاچکاہے۔
گذشتہ سات سالوں میں مارو اور پھینک دو پالیسی کے تحت پانچ ہزار سے زائد بلوچوں کو ماورائے عدالت قتل کر کے ان کی لاشیں پھینکی گئی ہیں اور بیس ہزار کے قریب بلوچ اب تک پاکستانی خفیہ سیلوں میں ازیتیں برداشت کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی جس گھمبیر صورتحال سے آج بلوچستان میں بلوچ قوم گزر رہی ہے اسی طرح کی صورتحال کاسامنا ایک وقت جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور اور کوسووو کی عوام کررہی تھیں لیکن وہاں پر اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی عالمی علمبردارممالک نے مداخلت کر کے وہاں کے لوگوں کو غاصب طاقتوں کے ظلم و جبر سے نجات دلانے میں مدد کی ۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اقوام متحدہ کو اس لیے تشکیل دیا گیا تاکہ طاقتور ممالک ، کمزور اور چھوٹے ممالک پر جاریت نہ کرسکیں ۔ پاکستان کو ستمبر 1947 میں اقوام متحدہ کی رکنیت دی گئی، اس نے جارحیت کے خلاف تحریر کیے گے چارٹر پر دستخط کیے لیکن صرف چند مہینوں بعد ہی پاکستان نے اقوام متحدہ کے تمام قوانین اور اصولوں کو روند کر بلوچستان پر حملہ کیا۔ اس دن سے لیکر آج تک اقوام متحدہ بلوچستان پر جبری قبضہ اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموش ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے چارٹر کی خلاف ورزی اور بلوچستان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے کر پاکستان کے خلاف اقدامات اٹھائے ۔
فری بلوچستان موومنٹ کے بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان پر جبری قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بلوچستان کے قومی مسلے کو اجاگر کرنے کے لیے نیویارک میں 13 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے سامنے 71 ویں جنرل اسمبلی کے ابتداکے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جہاں دنیا کے تمام ممالک کے سربرہان اجلاس کے دوران شریک ہونگے۔
فری بلوچستان موومنٹ نےامریکہ میں مقیم آزادی پسند بلوچ عوام اور عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی کہ وہ اس مظاہرے میں شرکت کریں تاکہ پاکستان کی بلوچستان میں ظلم و جبر اور بربریت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جاسکے


