نیکشہر (ہمگام نیوز) جمعرات، 8 اکتوبر 2026ء کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر نکشهر کے علاقے کرین دوک میں مسلح افراد نے سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی دو گاڑیوں کو تعاقب کے بعد شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک گاڑی الٹ گئی جبکہ اہلکاروں سے بھری مینی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
موصولہ معلومات کے مطابق، یہ دونوں گاڑیاں—ایک ٹویوٹا ہائی لکس اور ایک منی بس کرین دوک کے اس ملٹری بیس سے نکلیں تھیں جہاں اس وقت فاطمیون فورسز تعینات ہیں۔
دونوں گاڑیوں کا مسلح افراد نے پیچھا کیا اور ان پر یکبارگی حملہ کر دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ٹویوٹا ہائی لکس میں تین افراد سوار تھے جو فائرنگ کے بعد الٹ گئی، جبکہ منی بس میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ملٹری اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مقامی ذرائع نے دونوں گاڑیوں کے سواروں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی تصدیق کی ہے، تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی دقیق تعداد کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
دوسری جانب، سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی نیکشهر کے قریب آرمی کی 88 ویں آرمرڈ ڈویژن کے اہلکاروں کو لے جانے والی مینی بس پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
ڈویژن کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس واقعے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔
تاہم، میدانی اطلاعات اور سرکاری موقف کے درمیان تلفات اور گاڑیوں کی تعداد کو لے کر واضح تضاد موجود ہے، جس پر مزید تفتیش جاری ہے۔
بلوچستان میں حملوں کی نئی لہر
اسی روز، یعنی 8 اکتوبر کو، زاہدان کے علاقے نصرت آباد میں انتظامی فورسز کی ایک گاڑی پر بھی مسلح حملہ کیا گیا جس میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ سرکاری ذرائع نے اس حملے میں ایک انتظامی اہلکار، تھرڈ لیفٹیننٹ “وحید عنایت” کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
یہ حملہ اس سے ایک دن قبل، یعنی 7 اکتوبر 2026ء کی شام کو جالق (ضلع گلشن) میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے مسلح حملے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ جالق حملے کی ذمہ داری “جبهه مبارزین مردمی” نامی گروپ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں حکومتی اور فوجی گاڑیوں پر حالیہ حملوں میں تیز رفتاری سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے،


