پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںوہ پوچھتے ہے ہمارے مطالبات کیا ہے، ہمارے پاس اب الفاظ ہی...

وہ پوچھتے ہے ہمارے مطالبات کیا ہے، ہمارے پاس اب الفاظ ہی ختم ہوگئے۔جلیلہ حیدر

کوئٹہ(ہمگام نیوز) وہ پوچھتے ہے ہمارے مطالبات کیا ہے۔ تو ہمارے پاس اب الفاظ ہی ختم ہوگئے ہے کہ کیا مطالبہ ہے اور کس سے مطالبہ کرے۔
رات کے اندھیرے میں شہداء کو تدفین کرنا جیسے وہ کسی چوری کے معاملے میں قتل ہوئے ہے نہایت افسوس کی بات ہے۔ جلیلہ حیدر

یہ پروٹوکولز جنازوں پر فاتحہ خوانی کے لئے تو موجود ہوتی ہے مگر لوگوں کے سیکورٹی کے لئے نہیں۔

میں چاہتی ہوں پورا اسمبلی ایک سیاسی جماعت کو ملے اور پورا ہزارہ قوم کی لاشیں بائی پاس پر ہوں۔ جس بے حسی سے ایک ایم پی اے پر وہ جلی کٹی لاشوں کو چھوڑ کر اسکے دفاع میں ایک تنقید برداشت نہیں کرسکتے اب پتہ چلا کہ ہمارے لوگ کیوں مارے جاتے ہے۔ 20 خاندانوں کے یتیم و بیوہ نظر نہیں آتے مگر اپنے ایم پی اےز کا تنقید نظر آتا ہے۔ جلیلہ حیدر

یہ بھی پڑھیں

فیچرز