نوشکی (ہمگام نیوز) نوشکی تاریز کلی محمد یوسف بادینی کے رہائشی خوانین رحیمه بلورچ ، ریحانہ بلوچ اور آدم خان بادینی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا له ممتاز دین بڑیچ نامی شخص نے مل اڈہ میں ہماری ویڈیو بنا کر ہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور دھمکیاں دیتا تھا اگر تم نہیں آئے تو میں تمہاری ویڈیو وائرل کرونگا ، ہم ٹیچنگ ہسپتال کے قریب سے گزر رہے تھے تو ممتاز دین بڑیچ نے مجھے کہا میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھو میں تمہاری وڈیو ڈیلیٹ کرونگا وہ اپنی گاڑی میں ہمیں بٹھا کر اپنے گھر لے آیا ، میں نے اپنے بھائیوں کو صورت حال سے آگاہ کیا تو میرے بھائی فوری طور پر انکے گھر پہنچ گئے اور دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے ، میرے بھائیوں نے ممتاز دین بڑیچ کے ہاتھ باندھ دیے ۔
انھوں نے اپنی اس حرکت پر معافی اور اللہ کا واسطہ دیکر معاملہ رفع دفع کرنے کی منت سماجت کی جس پر میرے بھائیوں نے اسے چھوڑ دیا جس کی وڈیو بھی صحافیوں کو دکھائی لیکن بعد میں پولیس میں اغوا کی جھوٹی ایف آئی آر درج کراکر 60 لاکھ روپے تعاون کا ڈرامہ رچا کر پولیس نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارکر کر چادر اور چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے ہمارے گھر سے 10 لاکھ روپے بھی غائب کر دیے اور میرے تین بھائیوں کو اغوا کے جھوٹے کیس میں گرفتار کر لیا اور ہمارے چار مہمانوں کو پولیسں اپنے ساتھ لے گئی ۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں انصاف دلایا جائے ہم وزیراعلی بلوچستان ،کمشنر رخشان ڈویژن سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور
میرے بھائیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور کیسں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


