دبئی (ہمگام نیوزڈیسک) متحدہ عرب امارات میں سیکورٹی کے سربراہ اور لیفٹننٹ جنرل دھاہی خلفان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغامات میں ٹویٹ کرتے ہوئے پاکستانیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ ٹویٹس تب سامنے آئے جب دبئی حکام نے منشیات اسمگل کرنے والے ایک پاکستانی گروہ کو گرفتار کیا۔ دبئی جنرل سیکورٹی کے سربراہ کے ٹویٹس دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دبئی حکام نے دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو گھناؤنے فعل کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔
یکم اپریل کو دھاہی خلفان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں گرفتار کیے گئے اس پاکستانی گروہ کی تصویر پوسٹ کی اور کہا کہ پاکستانی خلیج ممالک کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک سے منشیات لاتے اور اسمگل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خلیجی ریاستوں کے داخلی راستوں پر سخت سکیورٹی کا اہتمام کرنا چاہئیے۔یکم اپریل کو دھاہی خلفان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں گرفتار کیے گئے پاکستانیوں کی تصویر پوسٹ کی اور کہا کہ پاکستانی خلیج ممالک کے لیے ایک خطرہ ہیں کیونکہ وہ اپنے ملک سے منشیات لاتے اور اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خلیجی ریاستوں کے داخلی راستوں پر سخت سکیورٹی کا اہتمام کرنا چاہئیے۔میں شہریوں کو تجویز دیتا ہوں کہ وہ پاکستانی شہریوں کو بطور ملازم نوکری پر نہ رکھیں.پاکستانیوں کو نوکری پر نہ رکھنا اب ہمارا قومی فرض بن گیا ہے۔بھارتی شہری کیسے منظم ہیں جبکہ پاکستانی معاشرے میں جرائم اور اسمگلنگ جیسے گھناؤنے جرائم پنپ رہے ہیں۔جرائم پیشہ رجحانات کی وجہ سے ہی ہم نے بنگالی شہریوں پر سختی کی۔ ایسے ہی پاکستانی شہریوں پر بھی اعلیٰ درجے کی نظر رکھی جانی چاہئیے۔دبئی جنرل سکیورٹی کے سربراہ کے ایسے ٹویٹس یا تو منشیات اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے جانے والے پاکستانیوں پر غصے کی ایک کڑی ہیں ، یا اس کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے اسلام آباد کو ”ٹیرارزم فنانسنگ لسٹ” میں شامل کرنے کے لیےسعودی عرب کی جانب سے ڈالے گئے ووٹ پر رد عمل ہے۔ اپنے ٹویٹس میں لیفٹننٹ جنرل دھاہی کا پاکستانیوں کا بنگالیوں سے موازنہ ایک خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتا ہے، چونکہ بنگالیوں کودور حاضر میں بہت مشکل سے متحدہ عرب امارات میں ورک ویزا دیا جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ موازنہ پاکستانیوں کو خلیجی ممالک میں روکنے کیلئے کسی نئی قانون سازی یا کسی نئی تجویز کی منظوری کی طرف ایک واضع اشارہ ہے۔یاد رہے خلیجی ممالک میں پاکستانی کی مجرمانہ سرگرمیوں کے علاوہ پاکستان کی ایران کے ساتھ تعلقات کو سخت ناپسند کیا جاتا رہا ہے۔
يشكل الباكستانيون تهديدا خطيرا للمجتمعات الخليجية لما يجلبوه من مخدرات معهم إلى دولنا..يجب التشديد عليهم بإجراءات صارمة في المنافذ… pic.twitter.com/LTCj5OW98m
— ضاحي خلفان تميم (@Dhahi_Khalfan) April 1, 2018


