قلات (ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے شہر قلات سے 7 سال قبل 29 ستمبر 2013 کو قابض پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے بلوچ طالب علم ظہور احمد لانگو ولد خیر بخش 7 سال گزرنے کے بعد اب تک بازیاب نہ ہوسکے۔
بلوچ طالب علم ظہور احمد لانگو کا تعلق قلات سے ہے جن کو 29 ستمبر 2013 کے دوپہر ایک بجے کے قریب قلات شہر میں آر سی ڈی روڈ سے جبری اغواء کے بعد لاپتہ کردیا۔
ظہور احمد لانگو کے خاندان نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلوچ طالب علم ظہور احمد کے جبری اغواء کے خلاف ان کی مدد کریں تاکہ وہ اس اذیت سے نجات پاسکیں۔
ظہور احمد لانگو کے اہل خانہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی گُمشُدگی پورے خاندان کے لئے ایک اذیت ہے۔ اگر ظہور احمد لانگو پر کوئی الزام ہے تو ان پر فرد جرم عائد کرکے عدالت میں پیش کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے مگر اس طرح سے کسی کو اتنے عرصے تک لاپتہ کرکے تشدد کا نشانہ بنانا اور پورے خاندان کو ذہنی تشدد کا شکار بنانا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


