مشکے (ھمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے تختہ مشق علاقہ مشکے میں قابض فوج بلوچ قوم کی اعصاب پر روز نت نئے طریقے سے حملہ آوار ہو رہی ہے۔ ،حالیہ وقتوں میں گرفتار شدہ 30 سے زائد خواتین و درجن بھر سے زیادہ بچوں کو پاکستانی فوج کے کالی کوٹھڑیوں میں بند زیر حراست تشدد کا سلسلہ جارہی ہیں ۔ اس وقت تک ایک بلوچ بیٹی فوجی تشدد سے شہید و دوسرے زند و مرگ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مشکے سے آمدہ اطلاعات کے مطابق قابض پاکستانی فوج وریاستی ڈیتھ اسکواڈ سر دار علی حیدر کے تشدد خانوں میں شہید غوث بخش و میر اسماعیل بلوچ کے خاندان کے 30 سے زائد خواتین و درجن کے قریب معصوم بچے زندگی و موت کے انتظار میں دن رات مسلسل غیر انسانی تشدد سہہ رہے ہیں۔جہاں خواتین کو ذہنی جسمانی و جنسی تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہے کہ پاکستانی فوج کے عقوبت خانوں سے بازیاب شدہ ایک بزرگ نے بتایا کہ شہید غوث بخش و میر اسماعیل بلوچ کے خاندان کے خواتین کو انتہائی شرمناک انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ چھوٹے بچوں تک کو پاکستانی فوج کے زیر سرپرستی سردار علی حیدر کی سربرائی میں جسمانی تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔جنکا قصور صرف یہ ہے کہ وہ شہید کے رشتہ دار ہیں،یا آزادی پسندوں کے رشتہ دار ہیں۔
بزرگ بلوچ نے بتایا کہ شہید غوث بخش کے بھائی عبدالنبی کے بیوی کو فورسز نے اتنا تشدد کیا کہ وہ قریب المرگ ہے۔
واضح رہے کہ اسی خاندان کی ایک بلوچ بیٹی نازول بلوچ زوجہ اقبال بلوچ جو 6 ماہ کی حاملہ تھی۔ پاکستانی فورسز و ڈیتھ اسکواڈ سربراہ سردار علی حیدر کی جسمانی تشدد سے گزشتہ روز شہید ہو گئی تھیں۔
پاکستانی فوج کی تشدد سے اس وقت شہیدغوث بخش بلوچ کے بھائی عبدالنبی کی زوجہ قریب المرگ ہیں۔ خاندان کے کچھ لوگ جو مقبوضہ مشکے میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ و فوج کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے انہوں نے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ انکے خاندان کے خواتین و بچوں کو ریاستی فورسز کی غیر انسانی بربریت سے محفوظ کرایا جائے، اور انسانی حقوق کے ادارے مشکے کا دورہ کرکے ان حقائق تک رسائی حاصل کریں اور ہمارے خواتین و بچوں کو بازیاب کرانے میں اپنی کردار ادا کریں۔


