کوئٹہ( ہمگام نیوز )پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.
ہمگام نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن( بی ایچ آر او )کی جانب سے بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے خواتین و دیگر لاپتہ افراد کی گمشدگی کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک مظاہرہ کیا گیا. مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین و بچوں نے بھی شرکت کی.
مظاہرے کے شرکاء نے مشکے و آواران سے گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خواتین اور دیگر لاپتہ بلوچوں کے جبری گمشدگی کے خلاف نعرے بازی کی.
مظاہرے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماؤں، لاپتہ افراد کے لواحقین و دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی.
مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہمارا آج کا مظاہرہ ان لاپتہ خواتین کے لیئے ہے جنہیں کچھ روز قبل مشکے سے لاپتہ کردیا گیا تھا اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کی طرح جھاؤ سے بھی خواتین کو لاپتہ کردیا گیا ہے اور لاپتہ بلوچوں میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے، جو ریاست کے عقوبت خانوں میں بند ہیں.
مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے چیئرپرسن بانک بی بی گل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان سے خواتین کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے مشکے کے علاقے گجری میں فورسز نے گل شیر بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے دو خواتین اور دو بچوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں. اسکے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں خاص کر مکران میں فورسز کی جانب سے ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں جہاں خواتین کو گرفتار کرکے ایف سی کیمپ منتقل کرکے مہینوں تک وہاں رکھا گیا ہے اور کئی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر ذہنی مریض بنادیا گیا ہے.


